رسائی کے لنکس

logo-print

'پھلیے لوکے دوربین پیٹی میں رکھ دے'


چرنجیت سنگھ اور شیتل کور

چرنجیت سنگھ اور شیتل کور کی طرح بہت سے دیگر سکھ بھی کرتارپور راہدری کا سنگ بنیاد رکھے جانے پر انتہائی خوش دکھائی دئیے

کرتارپور راہداری کی تقریب میں چرن جیت سنگھ اپنی اہلیہ شیتل کور کے ساتھ شریک ہیں اور دونوں کو وزیر اعظم عمران خان کی آمد کا بے چینی سے انتظار ہے۔

شیتل کور اپنے شوہر کے ہمراہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے جموں سے سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے پہلی بار پاکستان آئی ہیں۔

تقریب سے چند گھڑیاں قبل شیتل کور نے چرن جیت سنگھ سے پوچھا: “اب اس دور بین کا کیا کرینگے، جس سے ہم گورومہاراج کے گوردوارے کو تکتے تھے”۔

اس سے پہلے کہ چرن جیت سنگھ اپنی اہلیہ کے معصومانہ سوال کا جواب دیتے، وائس آف امریکہ کے نمائندے اجازت لے کر ان کی گفتگو میں شامل ہو گئے۔ شیتل کور نے اپنا سوال دہرایا۔ چرن جیت سنگھ نے جواب دیا کہ راستہ کھلنے والا ہے، دوربین کی اب ضرورت نہیں۔

انھوں نے کہا کہ “بابا جی کے کرم سے آج پہلی بار درشن ہو گئے ہیں تو اب آئندہ بھی اِن آنکھوں سے ہی درشن کیا کریں گے۔ اب اِس دور بین کو پیٹی میں رکھ دو”۔

چرنجیت سنگھ نے وائس آف امریکہ کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے لیے جموں سے پاکستان آنا آسان نہیں۔ اس کے لئے انہیں بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ہمیشہ وہ جموں سے گورداسپور اور بھارتی شہر امرتسر آیا کرتے تھے۔ شیتل کور نے بتایا کہ انکا اور اس دوربین کا چھتیس سال کا ساتھ ہے۔ یہ انہیں ان کے والد نے شادی کے وقت جہیز میں ساتھ دی تھی۔ شیتل کور راہداری کا سنگ بنیاد رکھے جانے پر انتہائی خوشی ہے اور وہ پاکستان کی شکرگزار ہیں۔

شیتل کور نے کہا کہ “اب ہمیں کسی ویزے کی ضرورت نہیں۔ اب جب دل کریگا بابا گورونانک کے پاس ماتھا ٹیکنے آئینگے۔ پُتر اِس عمر میں اور کوئی خواہش نہیں، اب تو ہم ایک مہینے میں تین چار بار بھی آ سکتے ہیں”۔

چرنجیت سنگھ اور شیتل کور کی طرح بہت سے دیگر سکھ بھی کرتارپور راہدری کا سنگ بنیاد رکھے جانے پر انتہائی خوش دکھائی دئیے۔ تقریب کے بعد سکھ برادری کے ایک گروپ نے وائس آف امریکہ کے نمائندے سے کہا “پُتر اِس لانگے دی خوشی توں ساڑھے چہرے تے ویکھ لے تے چمک انکھاں وچ”۔

گروپ کے افراد نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ سِدّھو پاکستان میں بہت مقبول ہیں، جہاں سے چاہیں الیکشن لڑ لیں جیت جائینگے۔ عمران خان بھی بھارت میں بہت مشہور ہیں۔
“سِدّھو پاکستان میں الیکشن جیت جائے گا تو عمران خان بھارت میں الیکشن جیت جائے گا۔ ساری سکھ اور ہندو برادری مل کر عمران خان کی الیکشن مہم چلائے گی اور اس کی برتری بہت زیادہ ہو گی”۔
سکھ برادری سمجتھی ہے کہ کرتارپور راہداری کھلنے سے ان کے دلوں کو سکون آ جائے گا اور ایک ایسا سپنا سچ ہو گا جس کا انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں۔
رواں ماہ 22 نومبر کو بھارت کی وفاقی کابینہ نے پاکستان کی تجویز مانتے ہوئے کرتارپور سرحد کھولنے کی منظوری دی تھی۔ اس منصوبے کے تحت بھارت پاکستان کی سرحد تک اپنی حدود میں سکھ یاتریوں کیلئے سڑک تعمیر کرے گا۔

کرتارپور کا گرودوارہ سکھوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تقریباً ایک سو تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع نارووال میں دریائے راوی کے کنارے ایک بستی ہے جسے کرتارپور کہا جاتا ہے۔

یہ وہ بستی ہے جسے بابا گرونانک نے 1521ء میں آباد کیا۔یہ گاؤں پاک بھارت سرحد سے صرف تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بابا گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس یہیں گزارے اور وفات پائی۔ اُن کی سمادھی اور قبر بھی یہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کرتارپور سکھوں کے لیے مقدس مقام ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG