رسائی کے لنکس

logo-print

مسائل کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کو ماضی بھلانا ہوگا: عمران خان


وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کے روز صوبہٴ پنجاب کے ضلع نارووال میں واقع گردوارہ صاحب کے قریب کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’’ماضی صرف سیکھنے کے لیے ہوتا ہے، رہنے کے لیے نہیں‘‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’’جب تک ہم ماضی کی زنجیریں نہیں توڑیں گے، آگے نہیں بڑھ سکیں گے‘‘

اُن کے الفاظ میں، “اگر فرانس اور جرمنی ایک یونین بنا کر آگے بڑھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں، اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے”۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ، انکی جماعت، تمام سیاسی جماعتیں، فوج اور سارے ادارے ایک پیج پر کھڑے ہیں؛ اور یہ کہ ’’ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور بھارت کے ساتھ ایک مہذب تعلق چاہتے ہیں‘‘۔

بھارتی وزیر ہرسمرت کور نے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’70 سالوں میں پاکستان اور بھارت نزدیک ہوتے ہوئے کتنے دور تھے۔ آج دوریاں ختم ہو رہی ہیں۔ میرے گرونانک کا بلاوا آیا تو آج آپ کی دھرتی پر آئی ہوں‘‘۔

اُن کے بقول، “جس دن بھارتی کابینہ نے راہداری کی منظوری دی اس دن میری دنیا ہی بدل گئی۔ عمران خان جب کرکٹ کھیلتے تھے تو انہیں نہیں پتا تھا کہ وہ اس عہدے پر پہنچیں گے اور نریندر مودی جب چائے بیچتے تھے انہیں نہیں پتا تھا کہ وہ اس عہدے پر پہنچیں گے۔ جیسے بابا گرونانک نے سب کو جوڑا ویسے کرتار پور راہداری بھی سب کو جوڑے گی”۔

سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، بھارتی وزیر خوراک ہرسمرت کور باد، بھارتی پنجاب نے وزیر بلدیات نوجوت سنگھ سِدّھو سمیت مختلف بھارتی مہمانوں، مختلف ممالک کے سفارتکاروں اور سکھ برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کرتارپور راہداری کی تقریب میں شرکت پر خوشی ہوئی۔ ’’بابا گرونانک نے امن اور محبت کا پیغام دیا۔ ان کا سحر انگیز کلام ہمارا باہمی سرمایہ ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ “اسلام مذہبی رواداری کا درس دیتا ہے۔ کرتارپور راہداری کھولنے کا پوری دنیا نےخیر مقدم کیا۔ بھارتی سکھ زائرین کو گردوارہ صاحب تک پہنچنے میں آسانی ہوگی”۔

تقریب سے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ وہ اور ’’دنیا بھر میں بسنے والی تمام سکھ برادری وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنا فرض نبھایا۔ جب بھی کرتارپور راہداری کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس کے ساتھ عمران خان کا نام ضرور لکھا جائے گا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ “پاکستان نے سرحد کھول کر پوری کائنات ہماری جھولی میں ڈال دی۔ بابا نانک کا فلسفہ جوڑنے کا ہے توڑنے کا نہیں۔ خون خرابہ بند ہونا چاہیے۔ امن آنا چاہیے۔ بہت خون خرابہ ہوگیا اور بہت نقصان ہوگیا”۔

کرتارپور پاکستان میں صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال میں واقع ہے جو بھارتی سرحد سے کچھ فاصلے پر ہے۔ جہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک دیو جی نے وفات سے قبل 18 برس قیام کیا؛ اور گرونانک کا انتقال بھی کرتارپور میں اسی جگہ پر ہوا۔

پاکستان گردوارہ صاحب سے سرحد تک اپنی حدود میں کرتارپور راہداری کے پہلے مرحلے میں ساڑھے چار کلومیٹر سڑک تعمیر کرے گا۔ اسی طرح بھارت بھی اپنی حدود میں سرحد تک راہداری بنائے گا۔ پاکستان یہ منصوبہ جلد از جلد مکمل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔

بھارت میں آباد سکھ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتارپور گردوارے تک بآسانی رسائی دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث اس مطالبے پر ماضی میں کبھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

حال ہی میں کرتارپور صاحب کا معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب نوجوت سنگھ سدھو نے رواں سال پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

اپنے اس دورے کے دوران نوجوت سنگھ سدھو نے کہا تھا کہ انہیں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور صاحب راہداری کھول سکتا ہے۔

اس تجویز کے بعد پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ 28 نومبر کو اپنی جانب اس راہداری کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھ دے گی۔

اس اعلان کے بعد گزشتہ ہفتے بھارتی کابینہ نے بھی سرحد کے آر پار سکھ یاتریوں کے لیے راہداری کی تعمیر کی منظوری دے دی تھی۔

سکھ یاتری کرتارپور میں ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔
سکھ یاتری کرتارپور میں ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔

کابینہ سے منظوری کے فوری بعد ہی بھارت کے نائب صدر نے 26 نومبر کو گورداسپور میں پاک بھارت سرحد کے نزدیک واقع ایک گاؤں میں راہداری کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا تھا۔

یہ راہداری بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع گورداسپور میں واقع ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان کی حدود میں واقع گردوارہ دربار صاحب تک تعمیر کی جائے گی جس کے ذریعے بھارتی یاتری بآسانی سرحد پار کرتارپور جا سکیں گے۔

دونوں ممالک اپنی اپنی حدود میں واقع راہداری کے حصے خود تعمیر کریں گے اور امکان ہے کہ یہ راہداری 2019ء کے اواخر تک تعمیر ہوجائے گی۔

اس وقت گردوارہ دربار صاحب جانے کے خواہش مند بھارتی سکھ یاتریوں کو واہگہ کے راستے سرحد پار کرنا پڑتی ہے جو گردوارے سے 130 کلومیٹر دور ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں گردوارے سے بھارتی سرحد تک ساڑھے چار کلومیٹر طویل سڑک اور درمیان میں پڑنے والے دریائے راوی پر پل تعمیر کیا جائے گا جب کہ سرحد پر ایک کمپلیکس بھی تعمیر ہوگا۔

پاکستانی حکام کے مطابق گردوارے کی تزئین و آرائش اور نئی عمارتوں کی تعمیر بھی پہلے مرحلے کا حصہ ہے جب کہ دوسرے مرحلے میں یاتریوں کے لیے اضافی رہائش گاہوں اور ہوٹل کی تعمیر زیرِ غور ہے۔

بھارت کے نائب صدر نے دو روز قبل ہی گورداسپور کے ایک سرحدی گاؤں میں راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔
بھارت کے نائب صدر نے دو روز قبل ہی گورداسپور کے ایک سرحدی گاؤں میں راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گردوارے آنے والے سکھ یاتریوں کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی اور انہیں سرحد پار کرنے کے لیے خصوصی پرمٹ جاری کیا جائے گا۔

راہداری کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے قبل معاصر ادارے 'بی بی سی' کو ایک انٹرویو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اگر یاتریوں کی تعداد بڑھ گئی اور حالات بہتر ہوئے تو گردوارے کے گرد و نواح میں بازار اور ہوٹل بنیں گے اور کاروبار پھیل سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG