رسائی کے لنکس

logo-print

کرتار پور منصوبہ جاری رکھنے اور سمجھوتا ایکسپریس معطل کرنے کا اعلان


(فائل فوٹو)

پاکستان نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس فیصلے کا اعلان جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا اور کہا کہ کشمیر عالمی طور پر ایک تسلیم شدہ مسئلہ ہے اور نئی دہلی کا یہ موؑقف درست نہیں ہے کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اس پر سلامتی کونسل کی متعدد قرار دادیں موجود ہیں۔ اس لیے پاکستان نے دوبارہ سلامتی کونسل میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے جسے پاکستان مسترد کرتا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جموں و کشمیر سے متعلق نئی دہلی کے فیصلے بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور کسی دوسرے ملک کو اس میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر بھارت اپنے حالیہ فیصلوں پر نظر ثانی کرے گا تو پاکستان بھی بھارت سے متعلق سفارتی اقدم پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے اپنے معاملات بات چیت سے حل کرنے کو تیار ہے اور بین الاقوامی برداری بھارت کو اس پر راضی کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کے باوجود عوامی رابطے بحال رہیں گے اور پاکستان اور سکھ یاتریوں کے لیے زیر تعمیر کرتار پور راہداری پر کام جاری رکھے گا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے ان اطلاعات کو مسترد کیا کہ پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک غلط خبر ہے اور پاکستان نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سمجھوتہ ایکسپریس سروس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اعلان قبل ازیں وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موغیرینی سے فون پر گفتگو میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں موجودہ صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی اعلیٰ سفارتی اہلکار نے خطے میں کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو باہمی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کے باوجود بات چیت کا راستہ کھلا ہے اور پاکستان سکھ یاتریوں کے لیے زیر تعمیر کرتار پور راہداری منصوبے پر کام جاری رکھے گا۔

ترجمان نے کہا کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد بھارت سے سفارتی تعلقات کو محدود کرنے اور دو طرفہ تعلقات پر نظرِ ثانی کرنے کا اعلان کیا اور بھارت کے ہائی کمشنر کو پاکستان چھوڑنے کا بھی حکم دیا ہے۔​

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا۔ اسلام آباد نئی دہلی کے ساتھ کشمیر سمیت تمام متنازع معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو تیار ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال سکھ کمیونٹی کے لیے کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک میں سکھوں کے مذہبی پیشوا گرو نانک کے 550 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر کرتار پور راہداری منصوبہ مکمل کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

سمجھوتا ایکسپریس معطل کرنے کا اعلان

پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتا ایکسپریس بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کا دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتا ہے اور ہم کشمیر کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

وزیرِ ریلوے نے کہا کہ کشمیر سے متعلق بھارت کے سفاکانہ، ظالمانہ، مجرمانہ اور غیر ذمہ دارانہ فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، بھارت نے کشمیر سے متعلق عالمی اداروں کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی ٹرین سروس ماضی میں بھی کئی بار کشیدگی کے باعث معطل کی جا چکی ہے۔ لیکن، دونوں ملکوں میں حالات معمول پر آنے کے بعد اسے دوبارہ بحال کر دیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG