رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: پارلیمنٹ کی بھارتی اقدام کے خلاف مشترکہ قرار داد مذمت


پاکستان کی قومی اسمبلی میں ہزاروں غباروں سے بنا قومی پرچم۔

پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھارت کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔ قرارداد میں بھارت کی جانب سے متنازعہ وادی کی جغرافیائی حیثیت کی تبدیلی کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا ہے۔

کشمیر کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں بلائے گئے پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس دو روز جاری رہنے کے بعد مشترکہ قرارداد کی منظوری کے بعد ختم ہو گیا۔ یہ قرارداد پارلیمانی کمیٹی برائے کمشیر کے چیئرمین فخر امام نے پیش کی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت کی جانب سے آرٹیکل 35 اے ختم کرنے کی مذمت کرتا ہے اور اس اقدام کو کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی بھونڈی کوشش قرار دیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کی تبدیلی کے حوالے سے بھارتی اقدام قبول نہیں ہے اور یہ کہ کشمیر کی حیثیت کے حوالے سے بھارت کا یک طرفہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے۔

پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قرارداد میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی سختی سے مذمت کی گئی اور انہیں جنگی جرائم اور نسل کشی کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت اپنے کنٹرول کے کشمیر میں جارحیت بند کرے اور اضافی فوج کو واپس بلائے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت کشمیری عوام پر بدترین مظالم کو فوری ترک کرتے ہوئے کشمیر میں مواصلاتی رابطے بحال کرے، کشمیری رہنماؤں کو رہا کرے، عالمی معاہدوں اور باہمی وعدوں کی پابندی کرے۔

بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال، تشدد اور انہیں جبری لاپتا کرنے کے سلسلے کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور لائن آف کنٹرول پر کلسٹر بموں سے بچوں سمیت کشمیریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ دہشت گردی کے نام پر پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کی بھی مذمت کی گئی۔

منظور کردہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت سلامتی کونسل، کشمیریوں اور عالمی برادری سے کیے اپنے وعدوں پر عمل کرے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق استصواب رائے سے حل کیا جائے۔

پاکستان کی پارلیمان نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل سے بھارت میں جاری کشمیریوں کے قتل عام کا نوٹس لینے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

قرارداد میں اسلامی تعاون تنظیم (آو آئی سی) سے کشمیر کی حالیہ صورت حال پر اعلیٰ سطح اجلاس فوری بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس معاملے پر او آئی سی کو اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

مشترکہ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قرارداد کے مطابق بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ اقدام سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو خطرہ ہے۔

پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس عزم کا عادہ کیا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

قرارداد کی منظوری سے قبل پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی کاروائی کو سمیٹتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے کر جا رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کے حوالے سے غیرقانونی اقدام کرتے ہوئے اس مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے اور اس معاملے کو اقوام متحدہ اور اسے سلامتی کونسل میں لے جانے کے حوالے سے چین سے تبادلہ خیال ہوا ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کی حیثیت کی تبدیلی کے اقدام کی بھارت میں بھی مخالفت کی گئی ہے اور منتازعہ وادی کی سیاسی قیادت نے بھارتی اقدام کو تسلم نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے اس فیصلے نے تمام کشمیری دھڑوں کو متحد کر دیا ہے اور مودی سرکار کے فیصلے پر بھارت نواز کشمیری اپنے ماضی پر پچھتا رہے ہیں۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم بھارت سے تجارت کو منسوخ کر رہے ہیں

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG