رسائی کے لنکس

کنٹرول لائن کی مبینہ خلاف ورزی پر پاکستان کا بھارت سے احتجاج


کنٹرول لائن پر تعینات ایک بھارتی فوجی اہلکار (فائل فوٹو)

دفتر خارجہ کے مطابق 29 اگست کو کوٹیرہ سیکٹر میں بھارتی افواج نے بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 55سالہ محمد راشد ہلاک ہو گیا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے لائن آف کنٹرول کی مبینہ خلاف ورزی پر بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے واقعے کی بھرپور مذمت کی ہے۔

فائرنگ میں پاکستانی حکام کے دعوے کے مطابق ایک 55 سالہ عام شہری محمد راشد ہلاک ہو گیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کیا اور بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا جواز فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کی۔

دفتر خارجہ کے مطابق 29 اگست کو کوٹیرہ سیکٹر میں بھارتی افواج نے بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 55سالہ محمد راشد ہلاک ہو گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق سال 2017 میں اب تک بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر 700سے زائد مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجے میں 29معصوم شہری ہلاک جبکہ 113زخمی ہوئے۔

سال 2016 میں بھارتی فوج نے 382مرتبہ سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کی ۔ دفتر خارجہ کاکہناہے کہ جان بوجھ کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بین الااقوامی قوانین کے منافی ہے ۔

ڈائریکٹر جنرل دفتر خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003 کے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے اور بھارتی فوج کومستقبل میں ایسے اقدام کرنے سے روکے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں اور دونوں ممالک کی طرف سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیئے جاتے رہے ہیں۔

گزشتہ برس بھارت کی جانب سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کے بعد کنٹرول لائن پر کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG