رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر میں ورکنگ باؤنڈری پر تازہ جھڑپوں میں 4 افراد ہلاک، متعدد زخمی


بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہل کار کشمیر میں اکھنور سیکٹر میں پاک بھارت ورکنگ باؤنڈری پر گشت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

جمعرات کے روز بھارتی عہدیدار وں نے جموں میں بتایا کہ بھارت-پاکستان سرحد کے رنبیر سنگھ پورہ علاقے میں پاکستان رينجرز کی فائرنگ سے بھارت کے سرحدی حفاظتی دستے بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کا ایک سپاہی اور ایک نو عمر لڑکی ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان رينجرز کی فائرنگ بِلا اشتعال تھی تاہم ان کے بقول اس کا فوری اور موثر جواب دیا گیا۔

بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے ایک تقریب میں ہلاک ہونے والے اہل کار کے تابوت پر پھول کی چادر ڈالی۔ بعد ازاں انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے سپاہیوں سے پاکستان کی اشتعال انگیزیوں کا پوری طاقت سے جواب دینے کا کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پر پائی جانے والے صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔

جموں کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ارون شرما نے کہا کہ پاکستانی فائرنگ کا دندان شکن جواب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ اور جوابی فائرنگ کا تازہ واقعہ جموں کے قریب واقع رنبیر سنگھ پورہ علاقے میں پاک بھارت سرحد پر پیش آیا۔

بھارت دونوں ملکوں کے درمیان موجود سرحد کا یہ حصہ انٹرنیشنل بارڈر یا بین الاقوامی سرحد کہلاتا ہے جبکہ اسلام آباد کا موقف ہے کہ سرحد کا یہ 198 کلو میٹر لمبا حصہ چونکہ متنازعہ کشمیر سے گزرتا ہے لہٰذا یہ دونوں ملکوں کے درمیان2912 کلو میٹر لمبی سرحد کا حصہ نہیں بلکہ ورکنگ باونڈری ہے۔

رنبیر سنگھ پورہ کی دوسری جانب پاکستانی پنجاب کا ضلع سیال کوٹ واقع ہے۔

بھارتی عہدے داروں نے پاکستانی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے بی ایس ایف کے سپاہی کی شناخت ہیڈ کانسٹیبل اے سریش کے طور پر کی اور کہا کہ اس کا تعلق بھارتی ریاست تامل ناڈو سے ہے۔ اُن کے مطابق، فائرنگ میں ہلاک ہونے والی 13 سالہ لڑکی سبیتی نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کی رہنے والی تھی اور رنبیر سنگھ پورہ کے ارنیا علاقے کے پنڈی چرکھان گاؤں میں اپنے ماموں کے ہاں آئی ہوئی تھی۔

اُدھر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس آر پی نے اپنے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ بی ایس ایف نے ضلع سیالکوٹ کے کئی دیہات کو بلا وجہ فائرنگ کرکے ہدف بنایا۔ بیان کے مطابق بھارتی فائرنگ میں دو خواتین ہلاک اور تین خواتین سمیت پانچ شہری زخمی ہو گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی سرحدی حفاظتی دستے کی طرف سے سرحدوں پر نومبر 2003 سے نافذ فائر بندی کے سمجھوتے کی اس تازہ صریحاً اور بلا اشتعال خلاف ورزی کا سختی کے ساتھ جواب دیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG