رسائی کے لنکس

logo-print

مشرق وسطیٰ تنازع، حل کے لیے ’’تعمیری خیالات‘‘ درکار: کیری


ایک اعلامیے میں اجلاس کے شرکا نے کہا ہے کہ، ’’دیرپہ امن کے حصول کا واحد راستہ بات چیت اور دو ریاستی حل ہے؛ جس میں اسرائیل اور فلسطین ایک دوسرے کے ساتھ امن و سلامتی سے رہ سکیں‘‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اسرائیل فلسطین تنازعے کا حل تلاش کرنے کے لیے ’’تعمیری خیالات‘‘ درکار ہے۔

کیری نے یہ بات پیرس میں فرانس کے وزیر خارجہ ژاں مارک اریلت کے ساتھ ملاقات کے بعد کہی، جس کے بعد اعلیٰ امریکی سفارت کار منگولیا روانہ ہوئے۔

بیس سے زائد ملکوں سے تعلق رکھنے والے وزرا کے ہمراہ کیری فرانسیسی دارالحکومت میں موجود تھے، جنھوں نے بین الاقوامی اجلاس منعقد کرنے میں مدد دینے کی فرانس کی پیش کش پر بات چیت کی، جو اس سال کے اواخر تک بلایا جا سکتا ہے۔ اجلاس کا مقصد جاری تنازع کے حل پر دھیان دینا ہے۔

پیرس میں ہونے والے کل کے اجلاس میں نہ تو اسرائیل ناہی فلسطینی شریک تھے۔

جمعے کے روز، کیری نے کہا کہ دیرپہ امن کےقیام کے عزم کے مظاہرے کے طور پر، ضرورت اس بات کی ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی دونوں فوری اقدام کریں۔

کیری نے اخباری نمائندوں کو بتایا ’’ہمیں چند فوری اقدامات تلاش کرنے کی ضرورت ہے، جن سے حالات میں فرق پڑے۔ آج سبھی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کوئی باہر سے حل مسلط نہیں کرسکتا اور آپ کو براہ راست مذاکرات کرنے پڑیں گے‘‘۔

اجلاس کے شرکا نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ، ’’دیرپہ امن کے حصول کا واحد راستہ بات چیت اور دو ریاستی حل ہے؛ جس میں اسرائیل اور فلسطین ایک دوسرے کے ساتھ امن و سلامتی سے رہ سکیں‘‘۔

جوں کی توں صورت حال

شرکا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حالات کو جوں کا توں چھوڑنا درست نہیں ہوگا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’نظر آنے والی صورت حال، خاص طور پر تشدد کے جاری واقعات اور بستیوں کی تعمیر کا معاملہ، دو ریاستی حل کے امکانات کے لیےنقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں‘‘۔

اجلاس کے شرکا نے اُس ممکنہ طریقہ کار پر بھی غور کیا جس کی مدد سے امن کے امکانات کو آگے بڑھانے میں مدد مل وسکتی ہے، جن میں فریق کو با معنی ترغیبات دینا شامل ہے، تاکہ امن آئے اور اسرائیلی قبضہ ختم کیا جاسکے جس کی شروعات سنہ 1967 میں ہوئی۔

اولاں کا انداز

فرانسیسی صدر فرانسواں اولاں نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’’امن کو سر بلند کرنے کے لیے ہمت دکھائیں‘‘۔ اُنھوں نے یہ بات جمعے کو امن کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔

اولاں کے بقول ’’اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین دیرپہ سمجھوتے کے لیے شرائط پر غور کرتے ہوئے، سارے خطے کے حالات کو مد نظر رکھنا لازم ہے‘‘۔

اولاں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی طاقتوں کو امن عمل کے حوالے سے ایک کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ لیکن، بالٓخر متعلقہ فریق کو ہی اپنے اختلافات سلجھانے کا بندوبست کرنا ہوگا۔

بقول اُن کے ’’خدشات اور ترجیحات بدل چکی ہیں۔ یہ تبدیلیاں مزید باور کراتی ہیں کہ تنازع کا حلا تلاش کرنا فوری ضرورت ہے، اور درپیش علاقائی بھونچال امن کے حصول کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے‘‘۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہل کار کا کہنا ہے کہ ’’ہم یہاں اپنے طور پر کسی طرح کا خاص ایجنڈا پیش نہیں کرسکتے۔ جب کہ امریکہ کھلے دل سے خیالات کو خوش آمدید کہتا ہے، ہم نے اس کے بارے میں کوئی بھی فیصلے نہیں کیے، ہمارا رول صرف یہ ہے کہ اس ضمن میں پیش رفت سامنے آئے‘‘۔

حالانکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پرتشدد کارروائیوں میں آنے والے حالیہ اضافے اور اجلاس میں اُن کی عدم موجودگی کے باوجود، کچھ امید کے آثار ہیں۔ وہ یہ کہ سخت قوم پرست اسرائیلی وزیر دفاع اوگڈر لیبرمین پیر کے روز عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں، جو دو ریاستی حل کے حامی ہیں۔

XS
SM
MD
LG