رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری مذاکرات، ایرانی و امریکی وزرائے خارجہ ویانا پہنچ گئے


پیر کی رات گئے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں، ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ اگلے ماہ کی حتمی تاریخ، 24 نومبر تک ’فیصلہ طے پا سکتا ہے‘۔

ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کے سلسلے میں، امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس وقت ویانا میں ہیں، جہاں وہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بات چیت کریں گے۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار اسکوٹ اسٹیئرنس نے آسٹریا کے دارالحکومت سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کیری اور ظریف کے درمیان بات چیت میں یورپی یونین کی نمائندہ کیتھی ایشٹن، جرمنی، روس، برطانیہ، فرانس، چین اور امریکہ کی قیادت کرتی رہی ہیں، تاکہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر قائل کیا جا سکے، جس کے عوض ایران کے خلاف کچھ معاشی تعزیرات اٹھائی جا سکتی ہیں۔

کیری کے ہمراہ سفر کرنےو الے محکمہٴخارجہ کے ایک اعلیٰ اہل کار کے بقول، تکنیکی کام مکمل کرنے کے لیے کافی وقت میسر ہوگا، اگر ہر ایک ضروری فیصلوں پر تیار ہوجائے۔

پیر کی رات گئے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں، ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ اگلے ماہ کی حتمی تاریخ، 24 نومبر تک ’فیصلہ طے پا سکتا ہے‘۔
کیری نے کہا کہ بات چیت ’قدم بہ قدم‘ آگے بڑھ سکتی ہے۔ اِس بات چیت میں جو اہم نقص موجود ہے وہ اُن سوالات پر مبنی ہے آیا ایران کو کس حد تک یورینئیم کی افزودگی کی اجازت ہونی چاہیئے۔ اسی پر منحصر ہے کہ جوہری ہتھیار تشکیل دینے کے لیے ایران کو کتنی مدت درکار ہوگی، اگر وہ ایسا کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔

ایک طویل عرصے سے، ایران یہ کہتا آیا ہے کہ اُس کا جوہری پرگرام شہری مقاصد کے لیے ہے اور یہ کہ اُس کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ادارہ نہیں۔ تاہم،امریکہ اور یورپی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ڈھکے چھپے طور پر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

محکمہٴخارجہ کے اعلیٰ اہل کار نے کہا ہے کہ اس معاملے میں، ایران کو کچھ بنیادی فیصلے کرنے ہوں گے، ایسے میں جب بین الاقوامی مذاکرات کار ایران کی طرف سے جوہری ہتھیار تشکیل دینے کی راہ کو ترک کرنے کے حوالے سے ’تعمیری‘ تجاویز کے حامل ہیں۔

اہل کار کے مطابق، تعمیری صورت کا مقصد یہ نہیں کہ مساوی رعایتیں ملیں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ مذاکرات کاروں کے بارے میں بدنیتی پرمبنی نکتہ چینی اُن کی طرف سے کی جارہی ہے، جو، اہل کار کے بقول، ’اُسے پسند نہیں کرتے جو ہم کر رہے ہیں۔’

یوکرین کے علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنے پر روس کے ساتھ اختلافات کے باوجود، عہدے داروں کے مطابق، جوہری بات چیت میں شامل چھ ملک نمایاں طور پر متحد ہیں۔

کیری اور لاوروف نے منگل کے روز پیرس میں اس معاملے پر گفتگو کی، اور کہا کہ اُن کے خیال میں اگلے پانچ ہفتوں کے دوران سمجھوتا طے پاجائے گا۔

وزیر خارجہ ظریف اور یورپی یونین کی ایلچی، ایشٹن جمعرات تک ویانا ہی میں رہیں گے، جہاں وہ سجھوتا طے کرنے کے لیے چھ ملکوں کے سیاسی ڈائریکٹرز سے مذاکرات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG