رسائی کے لنکس

logo-print

خیسور واقعے پر تنقید، سوشل میڈیا سے قومی اسمبلی تک


قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت نے کہا کہ فوج گھروں میں ایسے نہیں گھستی، فوج گھروں میں جو گھس بیٹھیے ہیں ان کو اٹھانے کے لئے بیٹھتی ہے

سوشل میڈیا پر چند روز سے شمالی وزیرستان کےایک بچے کی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں وہ الزام لگا رہا ہے کہ فوج کے 16-کے یونٹ کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کے بھائی اور باپ کو چار ماہ پہلے حراست میں لے لیا تھا۔

یہ بچہ جو اپنا نام حیات خان بتا رہا ہے کہتا ہے کہ فوجی اہلکار اس کے گھر میں داخل ہو جاتے ہیں اور گھر والوں سے شناخت مانگتے ہیں۔ اس کے بعد تکیے مانگ کر بیٹھ جاتے ہیں۔

اس بچے کا کہنا تھا کہ گھر میں کوئی بھی بڑا مرد موجود نہیں ہے اور فوجی اہلکار پردے کا احترام نہیں کرتے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ سیکورٹی ادارے اس کے والد اور بھائی کو چاہے حراست میں رکھیں مگر اس کے گھر آنا چھوڑ دیں۔

بچے نے ایک فوجی اہلکار کا نام دریا خان بتایا۔

یہ ویڈیو خیسور، شمالی وزیرستان کی ہے اور اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر سیکورٹی اداروں پر بہت زیادہ تنقید کی گئی ہے۔

اے این پی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اگر اس واقعے کا نوٹس نہ لیا گیا تو اس کے ’’قیامت خیز نتائج‘‘ برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بچے نے تو اس ویڈیو میں یہ بات بیان کر دی مگر ایسے کتنے ہی واقعات ہوئے ہوں گے جنہیں ثقافتی وجوہات سے رپورٹ نہیں کیا گیا ہو گا۔

اس واقعے کے بعد خیسور میں پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس ریلی میں منظور پشتین اور محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے متعدد رہنماؤں نے شرکت کی اور اس واقعے کے پیچھے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر منظور پشتین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے ڈٹ جانے کے بعد یہ بات معلوم پڑ جانی چاہئے کہ کسی کے بھی گھر میں بلا اجازت نہیں گھسنا چاہئے۔

آج پشاور میں بھی اس واقعے پر احتجاج ہوا۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے عمر فاروق سے بات کرتے ہوئے پی ٹی ایم رہنماؤں نے کہا کہ ’’پی ٹی ایم نے حکومت کو سات دنوں کا وقت دیا ہے۔ حیات خان کے والد اور بھائی کو رہا کیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے‘‘۔

یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی پہنچا اور محسن داوڑ، علی وزیر سمیت متعدد ارکان اسمبلی نے اس پر خطاب کیا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت نے کہا کہ فوج گھروں میں ایسے نہیں گھستی، فوج گھروں میں جو گھس بیٹھیے ہیں ان کو اٹھانے کے لئے بیٹھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں فوج پر تنقید اگر ہو گی تو اس کا جواب دینے والے بھی ایوان میں ہی موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کے شہریار آفریدی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ’’جنہوں نے شہریوں کی تذلیل کی ہے وہ اہلکار قانون سے بچ نہیں پائیں گے‘‘۔

XS
SM
MD
LG