رسائی کے لنکس

logo-print

خواجہ آصف کی نااہلی ختم ہونے کی مسلم لیگ نون کے لیے کیا اہمیت ہے


خواجہ آصف، فائل فوٹو

خواجہ آصف کی ناہلی ختم ہونے اور ان کے انتخابات میں حصہ لینے کے کیا اثرات مرتب ہو سکے ہیں اور پاکستان مسلم لیگ نون کے لئے اس کے کیا معنی ہیں؟ اس پر پاکستانی تجزیہ کاروں کا متضاد رد عمل سامنے آیا ہے۔ کچھ کے نزدیک یہ پاکستان مسلم لیگ کے لئے اس سال کی سب سے اچھی خبر ہے اور دیگر کا خیال ہے کہ خواجہ آصف کے امیدوار ہونے سے ، مخالفین کے ہاتھ میں مسلم لیگ کے خلاف ایک مزید ہتھیار آ جائے گا ، کیونکہ انہوں نے خود اقامہ رکھنے کو تسلیم کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے راہنما خواجہ آصف کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملنے کے انتخابات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس بارے میں کراچی یونیورسٹی سے وابستہ شعبہ سیاسیات کے استاد، ڈاکٹر توصیف احمد کہتے ہیں کہ مسلم لیگ کے لئے یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کے لئے یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔ ان کے خیال میں یہ نواز لیگ کے لئے اس سال کی سب سے اچھی خبر ہے کہ خواجہ آصف اب مسلم لیگ نون کے لئے خود بھی الیکشن لڑیں گے اور دوسرا اس کی انتخابی مہم میں بھی شامل ہو جائیں گے۔

تاہم ایف سی کالج لاہور میں شعبہ سیاسیات کے استاد ، ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کی اہلیت بحال ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ڈاکٹر حسنات کے نزدیک اس فیصلے کے عملی طور پر مسلم لیگ نون کوئی پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ البتہ جو ان کی مخالفین ہیں، ان کے پاس ایک اور نقطہ جائے گا کہ جب وہ لوگوں کے پاس ووٹ لینے جائیں گے تو وہ اسے بیان کرتے رہیں گے۔

ان کے امیدوار ہونے کے مسلم لیگ نون کے لئے کیا معنی ہیں، اس بارے میں ڈاکٹر توصیف کہتے ہیں کہ خواجہ آصف کی شمولیت سے مسلم لیگ نون کو پنجاب میں مضبوطی ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا خاصا امکان ہے کہ نواز شریف کو سزا ہو جائے، اور ظاہر ہے کہ جب انہیں سزا ہو جائے گی تو وہ انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے، جس سے مسلم لیگ ایک بڑے لیڈر کی کمی مزید پیدا ہو جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ خواجہ آصف نواز شریف کا متبادل تو نہیں ہیں، مگر ان کی ٹیم جس میں مرکزی شخص شہباز شریف ہیں، خود سابق وزیر اعظم ہیں، اس کے بعد تیسرے خواجہ آصف، اور احسن اقبال اس میں شامل ہو جائیں گے۔ تو پھر مسلم لیگ نون کو پنجاب میں انتخابی مہم چلانے کے لئے ایک مضبوط ٹیم بن جائے گی اور ، جو کہ ان کی الیکشن مہم کے لئے ایک چھا فیصلہ ہے۔

تاہم ڈاکٹر حسانت اس سے بالکل مختلف بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مخالفین اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک سیٹ ہے۔ نوا زلیگ پہلے اپنے بہت سے لوگوں کو کھو چکی ہے۔ بہت سے لوگ انہیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اور اب انہیں لوگ بھی نہیں مل رہے، امیدوار بھی نہیں مل رہے، جن کو یہ ٹکٹ دے سکیں، اور خواجہ آصف ،سیالکوٹ کی صرف ایک سیٹ ہیں۔

تاہم کل سے انتخابی مہم کا آغاز ہو گا، اور سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ابھی آنا ہے۔ عدالت کے مختصر فیصلے کے بعد، لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف کو بھی عدالت الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے گی؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG