رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا: تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کے اتحاد کا خاتمہ


فائل
فائل

حکومت سے نکلنے کے باوجود، جماعت اسلامی کا وزیر اعلیٰ کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی۔ ادھر، وزیر اعلیٰ نے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا آیا اسمبلی کا آخری اجلاس ہوگا یا نہیں۔

خیبرپختونخواہ کی مخلوط حکومت میں شامل پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے ایک دوسرے سے باضابطہ طور پر علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، جماعت اسلامی موجودہ پارلیمانی مدت کے خاتمے تک اسمبلی کے اندر اور باہر پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک نے پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے جماعت اسلامی کی جانب سے صوبے میں مخلوط حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ پچھلے پانچ سالوں کے دوران کئے جانے والے تعاون پر شکریے کے الفاظ ادا کئے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے تعاون سے انہوں نے صوبے میں ’’بہترین طرز حکمرانی قائم کی اور صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کو بھی حل کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے‘‘۔

صوبائی سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے یاد دلایا کہ ایک11 نکاتی معاہدے کے تحت جماعت اسلامی مخلوط حکومت کا حصہ رہی ہے اور ان گیارہ نکات پر من و عن عمل کیا گیا ہے۔

یہ معلوم کرنے پر کہ خیبرپختونخواہ اسمبلی میں اکثریت کھو جانے کے بعد آپ کی حکومت کا کیا جواز ہے، پرویز خٹک نے کہا کہ انہیں حزب اختلاف میں شامل بیشتر جماعتوں کے رہنمائوں اور حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں اور پاکستان تحریک انصاف سے نکالے جانے والے ممبران اسمبلی نے جمعرات کے روز صوبائی گورنر کو ایک خط پیش کیا ہے۔ خط میں صوبائی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی اکثریت کھو جانے کے بعد وزیر اعلیٰ کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخواہ اسمبلی کے 124 اراکین میں سے اب وزیر اعلیٰ کی جماعت اسلامی کے سات اراکین سمیت صرف 40 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم، حزب اختلاف کی جماعتوں میں اختلافات کے باعث وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی حکومت کو یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

انہوں نے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ اسمبلی کا آخری اجلاس ہوگا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کے بعد آج یعنی3 مئی کو ہونے والا اجلاس 14 مئی تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے ترجمان شوکت علی یوسفزئی نے جمعرات ہی کے روز ایک بیان میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی اسمبلی میں اکثریت کھو جانے کی تصدیق کی تھی اور کہا کہ اگر حزب اختلاف تعاون نہیں کرتا تو پھر موجودہ صوبائی حکومت آئندہ مالی سال کیلئے انتظامی اخراجات کا تخمینہ اسمبلی کے سامنے پیش نہیں کر سکتی۔

XS
SM
MD
LG