رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی بادشاہ کے خاص محافظ ذاتی تنازع پر قتل


قتل ہونے والے میجر جنرل عبد العزیز الفغم ہمیشہ شاہ سلمان کے پیچھے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مستعد نظر آتے تھے۔

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے خاص محافظ کو مبینہ طور پر ذاتی تنازع پر قتل کر دیا گیا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے 'عرب نیوز' کی رپورٹ کے مطابق مکہ کی پولیس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں میجر جنرل عبد العزیز الفغم کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

مکہ کی پولیس کے مطابق میجر جنرل عبد العزیز الفغم جدہ میں اپنے دوست ترکی السبتی سے ملنے گئے تھے اسی دوران ان دونوں کے مشترکہ دوست ممدوح بن مشعال ال علی وہاں پہنچے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ممدوح بن مشعال ال علی اور میجر جنرل عبد العزیز الفغم کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ان کے درمیان مالی لین دین کا معاملہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے تنازع پیدا ہوا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ اسی دوران ممدوح بن مشعال ال علی باہر گئے اور کچھ دیر بعد اسلحے سمیت اس مقام پر واپس آئے۔ انہوں نے فائرنگ کرکے بادشاہ کے خاص محافظ میجر جنرل عبد العزیز الفغم کو اسی مقام پر قتل کر دیا۔

بعد ازاں پولیس بھی وہاں پہنچی تاہم ممدوح بن مشعال نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔

پولیس کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی فائرنگ میں ممدوح بن مشعال بھی مارے گئے۔

سرکاری خبر رساں ادارے 'سعودی پریس ایجنسی' نے عربی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ ممدوح بن مشعال سے فائرنگ کے تبادلے میں پانچ سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق قبل ازیں عبد العزیز الفغم پر کی جانے والی فائرنگ سے ترکی السبتی اور ان کا ایک ملازم بھی زخمی ہوئے ہیں۔

زخمی ملازم فلپائن کا شہری بتایا جا رہا ہے تاہم اس کے حوالے سے مزید کسی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی جانب سے اعلی سکیورٹی کے عہدیدار کی ہلاکت پر کسی قسم کا بیان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب سعودی شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر عبد العزیز الفغم کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں جبکہ ان کے لیے دعائیہ کلمات بھی سوشل میڈیا پوسٹس میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش متعدد تصاویر میں میجر جنرل عبد العزیز الفغم کو سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے پیچھے کھڑے یا ان سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ بعض جگہ وہ شاہ سلمان کی عصا لیے کھڑے ہیں۔

ایک تصویر میں وہ بادشاہ کے جوتے کا تسمہ باندھتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر صحت توفیق الربیعہ نے بھی ان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سعودی جنرل انٹرٹینمٹ اتھارٹی کے سربراہ ترکی الشیخ نے بھی ان کی موت پر غم کا اظہار کیا ہے۔

سعودی عرب میں اسلحے سے کسی کے قتل کے جرائم شازو نازر ہی ہوتے ہیں۔

ملک میں سخت اسلامی قوانین کے نفاذ اور اس پر عمومی طور پر عمل در آمد ہوتا ہے۔ اسلامی قانون کے تحت ہی قاتل اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG