رسائی کے لنکس

logo-print

استنبول: لاپتا صحافی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کیے جانے کا شبہ


سعودی حکومت کا ایک اہلکار استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہو رہا ہے۔

ترک حکومت کے ایک اہلکار نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں کہا ہے کہ ترک پولیس کا خیال ہے کہ جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں قتل کردیا گیا ہے۔

ترکی میں حکام نے اس معروف سعودی صحافی کے قتل کا خدشہ ظاہر کیا ہے جو پانچ روز قبل استنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانے گئے تھے لیکن اس کے بعد سے ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔

ترک حکومت کے ایک اہلکار نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں کہا ہے کہ ترک پولیس کا خیال ہے کہ جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں قتل کردیا گیا ہے۔

اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ ترک پولیس کے خیال میں جمال خاشقجی کا قتل پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا اور شبہ ہے کہ ان کی لاش بھی قونصل خانے سے کہیں اور منتقل کردی گئی ہے۔

تاہم ترک اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ پولیس کے خیال میں خاشقجی کو کس طرح قتل کیا گیا۔

استنبول میں تعینات سعودی قونصل جنرل نے 'رائٹرز' سے گفتگو میں صحافی کے اغوا کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک خاشقجی کی تلاش میں ترک حکام سے تعاون کر رہا ہے۔

جمال خاشقجی (فائل فوٹو)
جمال خاشقجی (فائل فوٹو)

جمال خاشقجی سعودی حکومت کے کڑے ناقد ہیں جو سعودی حکومت کی ممکنہ انتقامی کارروائی سے بچنے کے لیے گزشتہ ایک سال سے خودساختہ جلاوطنی پر امریکہ میں مقیم تھے۔

جمال ایک ترک خاتون سے شادی کرنے والے تھے اور اپنی شادی سے متعلق دستاویزات کے حصول کے لیے منگل کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے تھے جس کے بعد سے وہ باہر نہیں آئے۔

جمال کی گمشدگی کی اطلاع ان کی منگیتر نے ترک حکام کو دی تھی جو سعودی قونصل خانے کے باہر ان کی منتظر تھیں۔

صحافی کی گمشدگی کے بعد سے ترک اور سعودی حکام کی جانب سے اس بارے میں متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔

سعودی حکام کا موقف ہے کہ خاشقجی منگل کو قونصل خانے آنے کے کچھ دیر بعد ہی واپس چلے گئے تھے جب کہ ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کے قونصل خانے سے باہر آنے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

امن کی نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن توکل کرمان استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے کے باہر ہونے والے مظاہرے میں شریک ہیں۔
امن کی نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن توکل کرمان استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے کے باہر ہونے والے مظاہرے میں شریک ہیں۔

خاشقجی کی گمشدگی کی تصدیق ہونے کے بعد ترکی کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو سعودی سفیر کو طلب کرکے معاملے پر وضاحت بھی مانگی تھی۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کے باعث ترک پولیس تفتیش کے لیے قونصل خانے کی حدود میں داخل نہیں ہوسکتی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے بھی خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

جمال معروف امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' میں کالم بھی لکھتے رہے ہیں جس نے جمعے کو اپنی اشاعت میں اس صفحے کو خالی رکھا تھا جہاں خاشقجی کا کالم چھپا کرتا تھا۔

انسٹھ سالہ خاشقجی کا شمار معروف سعودی صحافیوں میں ہوتا ہے اور وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر کڑے ناقد کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG