رسائی کے لنکس

logo-print

منقسم کوریائی خاندانوں کی ملاقات پر مذاکرات


کوریائی جنگ کے خاتمے کے بعد ہزاروں افراد منقسم ہوگئے تھے

کوریائی جنگ میں منقسم ہونے والے خاندانوں کی ملاقات کی تقریبات کے انعقاد کے لیے شمالی وجنوبی کوریا کے حکام کے درمیان مزید گفت وشنید کا سلسلہ جاری ہے اور طرفین نے جمعہ کو شمالی کوریا کے سرحدی قصبے Kaesongمیں ان معاملات پر بات چیت کی ہے۔

گذشتہ ہفتے ہونے والی بات چیت کے بعد جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا تھا کہ فریقین تقریبات کے مقام کا تعین کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

1953ء میں صلح کے معاہدے کے تحت ختم ہونے والی تین سالہ کوریائی جنگ کے نتیجے میں ہزاروں باشندے منقسم ہوکر رہ گئے تھے۔

جمعہ کو ہونے والی بات چیت شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی تازہ نشانی ہے جو کہ رواں سال مارچ میں جنوبی کوریا کے بحری جہاز ڈوبنے کے بعد سے کشیدہ ہوگئے تھے۔سیول جہاز غرق کرنے کا الزام پیانگ یانگ پر عائد کرتا ہے تاہم شمالی کوریا نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں شمالی کوریا کی طرف سے متعدد مصالحتی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں جن میں غلطی سے سرحد پار کرکے ملک میں داخل ہونے والے ایک امریکی کی رہائی کے علاوہ جنوبی کوریا کے ان ماہی گیروں کی رہائی بھی شامل ہے جن کی کشتی کو گذشتہ ماہ تحویل میں لیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا کے ریڈکراس کی طرف سے پڑوسی ملک میں سیلاب اور سمندری طوفان سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے امداد کا اعلان کیا گیا تھا۔

یہ مفاہمتی اقدامات ایک ایسے وقت ہورہے ہیں جب شمالی کوریا تیس سالوں میں سب سے بڑا سیاسی اجتماع منعقد کرنے کی تیاری کررہا ہے۔مبصرین کا ماننا ہے کہ اہم رہنما Kim Jong Ilاس موقع پر اپنے بیٹے Kim Jong Unکو اپنے اختیارات کی منتقلی کی بنیاد رکھیں گے۔

XS
SM
MD
LG