رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا: بچوں کے ریپ میں ملوث مجرموں کو سرِ عام پھانسی کی تجویز


فائل فوٹو

خیبر پختونخوا اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو سر عام سزائے موت دینے کی تجویز دی ہے۔

اس قسم کے واقعات میں ملوث 18 سال سے کم عمر ملزم بچوں اور مجرموں کو سر عام پھانسی کی سزا دینے کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی صدارت میں منگل کو ہوا۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں مشتاق احمد غنی نے کہا کہ زیادہ تر ممبران کمیٹی کی تجویز ہے کہ بچوں کے خلاف تشدد بالخصوص جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی کے توجہ دلاؤ نوٹس پر بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے بارے میں صوبائی اسمبلی کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

اس پارلیمانی کمیٹی کی تین ذیلی کمیٹیاں قائم ہیں جس میں بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے فوری قانون سازی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی کہ بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں ملوث ملزمان کا تعلیمی اداروں، پارکس اور دیگر بچوں کے جانے کے مقامات میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔

پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں ملوث 18 سال سے کم عمر کے ملزمان کو سزائے موت دینے یا مقدمات میں نامزد کرنے کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کی تجویز سامنے آئی۔ جب کہ جنسی زیادتی کے مجرموں کو سر عام سزائے موت یا پھانسی کے بارے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی۔

بچوں کے حقوق کے ایک بین الاقوامی ادارے سے منسلک عمران ٹھکر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس قسم کے جرائم میں ملوث ملزمان کو سزائیں دینا بھی ضروری ہے مگر سزاؤں کے ساتھ ساتھ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی لازم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG