رسائی کے لنکس

logo-print

ڈارک ویب کے مبینہ سرغنہ کے خلاف اہم شواہد ملنے کا دعویٰ


فائل فوٹو

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں راولپنڈی پولیس نے کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث ملزم سہیل ایاز کے مقدمے میں ملزم کا ڈی این اے ایک بچے کے ساتھ مل گیا ہے۔

سینیٹ کمیٹی کا اجلاس پیر کو سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں ہوا جس میں چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) عامر عظیم باجوہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں چائلڈ پورنو گرافی کی آٹھ لاکھ سے زائد ویب سائٹس بلاک کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلاک کی جانے والی سائٹس میں سے 2300 ویب انٹرپول سے لی گئی تھیں۔ عامر عظیم کے مطابق ڈارک ویب تک عام آدمی کی رسائی نہیں ہے۔ پی ٹی اے کو جب بھی ایسی کوئی شکایت موصول ہوتی ہے، اس پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔

اجلاس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے اپنے ایکٹ کے تحت ہر شکایت پر ایکشن لیتا ہے۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ سوشل میڈیا پر کون سا ایشو چل رہا ہے۔

کمیٹی کی چیئر پرسن روبینہ خالد نے کہا کہ ایف آئی اے پچھلے تین سال سے 14 شکایات کا بتا رہا ہے۔ کیا پورے پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے صرف 14 کیسز ہوئے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ‏ایف آئی اے از خود نوٹس لے کر ایکشن لے۔ کمیٹی نے ایف آئی اے کو ایکٹ میں ترامیم تجویز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

روبینہ خالد نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کے معاملے پر کمیٹی کی ہدایات کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ اگر ادارے بروقت کام کرتے تو سہیل ایاز جیسا واقعہ پیش نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے مستقبل میں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پلان بتائے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ لوگ شکایت درج کرانے سے ڈرتے ہیں۔ شکایت درج کرانے کا طریقۂ کار آسان بنایا جائے اور شکایت کنندہ کا نام صیغۂ راز میں رکھا جائے۔

روبینہ خالد نے کہا کہ وہ بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کے معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین سے ‏ملی ہیں۔

ان کے بقول "میرے خیال میں یہ قتل نہیں، نہ ہی اس میں دیت ہونی چاہیے۔ غریب لوگوں کے بچوں سے زیادتی کے بعد قتل کر کے ڈرا دھمکا کر دیت کے پیسے دے ‏دیے جاتے ہیں۔"

راولپنڈی سے گرفتار جنسی زیادتی کے ملزم سہیل ایاز کے حوالے سے سی پی او فیصل رانا نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ایک بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے۔ یہ وہی بچہ ہے جو ملزم کے گھر سے بازیاب ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے ملزم کے کمپیوٹر کا ڈیٹا بھی ریکور کر لیا ہے جس میں سے لگ بھگ ایک لاکھ بچوں کی تصاویر ملی ہیں۔

فیصل رانا نے کہا کہ ملزم سہیل ایاز اور متاثرہ بچوں کی ڈرگ رپورٹ مثبت آئی ہے۔ پولی گراف ٹیسٹ اور ڈی این اے بلڈ ٹیسٹ بھی میچ کر گیا ہے جس کی وجہ سے اب ہمارا کیس بہت مضبوط ہو گیا ہے۔

کمیٹی نے ڈارک ویب کے مبینہ سرغنہ سہیل ایاز کیس میں جے آئی ٹی نہ بنانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں بن جاتی ہیں۔ لیکن اس اہم معاملے پر جے آئی ٹی کیوں نہیں بن سکی؟

کمیٹی نے جے آئی ٹی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور چائلڈ پروٹکیشن بیورو کے افسران کو بھی شامل کیا جائے اور آئندہ دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کی جائے۔

اجلاس کے دوران بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز ڈارک ویب پر ڈالنے کے معاملے پر بحث ہوئی۔

سینیٹر کلثوم پروین نے کہاکہ قصور کی زینب کا واقعہ سامنے آنے کے وقت بھی ڈارک ویب کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ لیکن ہم نے اس وقت ان باتوں کو سنجیدہ نہیں لیا۔ بروقت اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG