رسائی کے لنکس

logo-print

قصور ویڈیو اسکینڈل: 'جو کچھ ہوا اُسے بھولنا چاہتے ہیں لیکن لوگ بھولنے نہیں دیتے'


قصور میں زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب سے ہماری ویڈیوز سامنے آئی ہیں، خاندان والوں نے بھی منہ پھیر لیا ہے۔

"میں آٹھ نو سال کا تھا جب مجھے کام کا کہہ کر وہ حویلی لے گئے۔ وہاں جا کر مجھے جوس جیسی کوئی چیز پلائی۔ جس کے بعد معلوم نہیں کیا ہوا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں آہستہ آہستہ چل کر گھر آیا۔

اگلے دن میں جا رہا تھا تو اُنہوں نے میرے ساتھ کی جانے والی زیادتی کی ویڈیو مجھے دکھائی اور کہا کہ یہ دیکھو تمھاری ویڈیو۔ اور کہا کہ جب ہم تمہیں بلایا کریں گے تو تم نے آنا ہے۔"

یہ داستان پاکستان کے ضلع قصور کے علاقے حسین خانوالا کے ایک رہائشی نوجوان کی ہے جس کے ساتھ آٹھ سال کی عمر میں نہ صرف جنسی زیادتی کی گئی تھی بلکہ اس کی ویڈیو بنا کر اسے بلیک میل کیا جاتا رہا اور وہ آٹھ سال تک ملزمان کی ہوس کا نشانہ بنتا رہا۔

متاثرہ نوجوان نے وائس آف امریکہ سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس لیے متاثرہ نوجوان کو اس خبر میں طاہر کا فرضی نام دیا گیا ہے۔

طاہر ہی نہیں بلکہ اس کی طرح دیگر درجنوں بچوں کو بھی حسین خانوالا میں کئی برسوں تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ مجرمان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دوران ان کی ویڈیوز بناتے اور پھر اُن بچوں اور ان کے والدین کو بلیک میل کر کے ان سے پیسے بٹورتے۔

متاثرہ نوجوان طاہر کا کہنا ہے کہ وہ آٹھ سال تک ملزمان کی ہوس کا نشانہ بنتا رہا۔
متاثرہ نوجوان طاہر کا کہنا ہے کہ وہ آٹھ سال تک ملزمان کی ہوس کا نشانہ بنتا رہا۔

لاہور سے 40 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ضلع قصور صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ لیکن پچھلے چند برسوں سے اس ضلع کے مختلف علاقوں سے نو عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کے بعد ان میں سے کئی بچوں کے قتل کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

حال ہی میں پولیس نے قصور کے علاقے چونیاں میں چار بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے ملزم سہیل شہزادہ کو ڈی این اے کے نمونے اور دیگر شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے۔

گزشتہ سال سات سالہ بچی زینب کے ساتھ زیادتی اور پھر اس کے قتل کا واقعہ بھی ضلع قصور میں ہی پیش آیا تھا۔ جس کے مجرم علی عمران کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

حسین خانوالا ویڈیو اسکینڈل

قصور کے علاقے حسین خانوالا میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا اسکینڈل 2015 میں سامنے آیا تھا۔ اس اسکینڈل کے ذریعے درجنوں بچوں کے ساتھ جبری زیادتی کی تقریباً 250 ویڈیوز منظرِ عام پر آئی تھیں۔

طاہر بھی انہیں بدقسمت بچوں میں سے ایک ہے جس کا ملزمان نے کئی برسوں تک جنسی استحصال کیا تھا۔ اپنے ساتھ کی جانے والی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد طاہر کو اپنا گھر بھی چھوڑنا پڑا تھا۔

طاہر نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ 2006 سے لے کر 2013 تک ملزمان اسے بلیک میل کرتے رہے۔ وہ پیسے مانگتے اور طاہر اُنہیں رقم دیتا رہا۔

طاہر کے مطابق "وہ میرے جوتے تک اتروا لیا کرتے تھے۔ اگر میرے پاس اچھا موبائل ہوتا تھا تو وہ بھی چھین کر لے جاتے تھے۔"

قصور میں برسوں زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:20 0:00

باپ کے سائے سے محروم طاہر کا کہنا تھا کہ وہ مجرمان کی بلیک میلنگ سے بچنے کی خاطر اپنا گھر چھوڑ کر لاہور چلا گیا اور وہاں 12 ہزار روپے ماہوار پر ملازمت کرنے لگا۔ لیکن مجرموں نے پھر بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔

طاہر کے بقول "میری زیادتی کی ویڈیو بنانے والے تنخواہ کے 12 ہزار میں سے میرے پاس صرف دو ڈھائی ہزار رہنے دیتے اور باقی چھین لیتے۔"

طاہر کے نانا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُنہیں جب لوگوں نے ان کے نواسے کی ویڈیو دکھائی تو وہ طاہر کو ڈھونڈنے لاہور گئے اور اسے سمجھایا کہ گھر واپس آجاؤ۔ لیکن وہ مجرمان کے خوف سے واپس نہیں آیا۔

'اگر ویڈیو ڈیلیٹ کرانی ہے تو اور بچوں کو لاؤ'

طاہر کا محلے دار اور بچپن کے دوست اشرف (فرضی نام) بھی انہی ملزمان کی ہوس کا نشانہ بنا تھا جنہوں نے طاہر کے ساتھ زیادتی کی تھی۔

اشرف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ملزمان نے اسے ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا تھا اور زیادتی کرنے اور ویڈیو بنانے کے بعد واپس گھر بھیج دیا تھا۔

طاہر کے نانا کے بقول انہوں نے اپنے نواسے کو سمجھایا کہ گھر واپس آجاؤ۔ لیکن وہ ملزمان کے خوف سے واپس نہیں آیا۔
طاہر کے نانا کے بقول انہوں نے اپنے نواسے کو سمجھایا کہ گھر واپس آجاؤ۔ لیکن وہ ملزمان کے خوف سے واپس نہیں آیا۔

سسکتی آواز اور ڈرے ہوئے لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے اشرف کا کہنا تھا کہ وہ ملزمان اسے ڈراتے تھے کہ ہم تمھاری ویڈیو تمھارے گھر والوں کو دکھا دیں گے اور مطالبہ کرتے تھے کہ اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کی ویڈیو ڈیلیٹ کردی جائے تو وہ اور لڑکوں کو بھی ان کے پاس لے کر آئے۔

اشرف کے بقول وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی ویڈیو سے جان چھڑانے کے لیے اپنے دوستوں کو بھی ملزمان کے پاس لے جاتا رہا اور ملزمان ان کے ساتھ بھی زیادتی کرتے اور ان کی بھی ویڈیوز بناتے رہے۔

طاہر اور اشرف کی طرح ملزمان کا نشانہ بننے والے حسین خانوالا کے ایک اور بچے انعام (فرضی نام) کے چچا نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ ملزمان نے ان کو اپنی حویلی میں بلا کر ویڈیو دکھائی تھی اور کہا تھا کہ یہ دیکھو ہم نے تمھارے بچے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

اُن کے بقول بھتیجے سے زیادتی کرنے والوں نے پیسوں کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر تم پیسے دو گے تو تمہارے بچے کی ویڈیوز ختم کردیں گے۔

انعام کے چچا نے بتایا، "میں نے انہیں 20 ہزار روپے دیے جو کہ انہوں نے آپس میں اسی وقت تقسیم کرلیے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ "ہم نے تو ویڈیو ختم نہیں کرنی، تم نے جو کرنا ہے کرلو۔"

مجرمان کے خلاف قانونی کارروائی

حسین خانوالا میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تقریباً 250 ویڈیوز سامنے آنے کے بعد 2015 میں اس ویڈیو اسکینڈل کو میڈیا پر کوریج ملی تھی اور ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

زیادتی کا شکار بچوں کے والدین کی قانونی معاونت کرنے والے سماجی کارکن محمد سلطان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 2014 میں ایک چھ سالہ بچے کی ماں نے پہلی بار اس بارے میں ایک درخواست تھانہ غنڈہ سنگھ میں دی تھی۔

اُن کے بقول تھانے میں درخواست جمع کرانے کے دو دن بعد ایس ایچ او نے متاثرہ بچے کی ماں کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اور انہیں تھانے سے نکال دیا تھا۔

متاثرہ لڑکے اشرف کے چچا کے مطابق انہوں نے ملزمان کو 20 ہزار روپے بھی دیے اس کے باوجود انہوں نے بھتیجے کی ویڈیو ڈیلیٹ نہیں کی۔
متاثرہ لڑکے اشرف کے چچا کے مطابق انہوں نے ملزمان کو 20 ہزار روپے بھی دیے اس کے باوجود انہوں نے بھتیجے کی ویڈیو ڈیلیٹ نہیں کی۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے 'ساحل' کے مطابق 2015 میں ضلع قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 451 واقعات رپورٹ ہوئے تھے اور بچوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتی کی 285 ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔

ویڈیو اسکینڈل سامنے آنے کے بعد مجموعی طور پر 19 مقدمات درج ہوئے تھے جن میں سے 15 مقدمات کا فیصلہ آچکا ہے۔

ان مقدمات میں عدالت نے دو مجرموں کو عمر قید کے علاوہ تین، تین لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی گئی۔

کئی برس گزر جانے کے بعد بھی طاہر اور اشرف اپنے گھر سے دور ہیں اور صرف عید اور تہواروں کے موقع پر ہی اپنے گھروں کا رخ کرتے ہیں۔

دونوں نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ اپنے آبائی علاقے واپس آتے ہیں تو لوگ ان پر آوازے کستے ہیں۔

طاہر اور اشرف کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، وہ اسے بھولنا چاہتے ہیں لیکن محلے دار اور جاننے والے انھیں بھولنے نہیں دیتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG