رسائی کے لنکس

logo-print

خیبرپختون خوا اسمبلی میں سابق قبائلی علاقوں کی نشستیں مقرر


خیبر پختون خوا اسمبلی کے اجلاس کا ایک منظر۔ فائل فوٹو

خیبر پختون خوا میں حال ہی میں ضم ہونے والے سابق قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے نشتوں کا تعین کر دیاگیا ہے۔

الیکشن کمشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق صوبائی اسمبلی میں سابق قبائلی علاقوں سے ممبران اسمبلی کا چناؤ عام انتخابات کے ذریعے ہو گا جس کے لئے حلقہ بندیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

الیکشن کمشن آف پاکستان کے صوبائی ترجمان سہیل احمد خان نے وائس آف امریکہ کو حلقہ بندیوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر شائع شدہ حلقہ بندیوں میں باجوڑ اور خیبر سے تین تین، مہمند، کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان سے دو، دو جبکہ اورکزئی اور فرنٹیر ایجنسیز کے لئے ایک ایک نشت مختص کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان حلقہ بندیوں پر اعتراضات اس مہینے کے آخر تک وصول کیے جائیں گے۔ الیکشن کمشن حتمی فہرست 4 مارچ کو شائع کرے گا۔

الیکشن کمشن کے ترجمان نے کہا کہ سابق قبائلی اضلاع میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 25 لاکھ سے زائد ہے جن میں 15 لاکھ 8 ہزار مرد جبکہ 10 لاکھ ایک ہزار سے زیادہ خواتین رائے دہندگان شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی نشتوں کا تعین آبادی کے بنیاد پر کیا گیا ہے، مگر عرصہ دراز سے سابق قبائلی علاقوں کے زیادہ تر حصوں میں مردم شماری تو ہوئی ہی نہیں ہے، اور جن علاقوں میں ہوئی بھی ہے تو اس پر مقامی لوگوں نے شدید اعتراضات کر رکھے ہیں۔

وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے سابق قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے نشتوں پر انتخابات کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں ۔ انہوں نئے کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ ان نشتوں پر انتحابات آئندہ مئی کے آغاز تک مکمل کر لیے جائیں۔

سابق قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی نشتوں پر انتخابات کی تکمیل سے خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلی میں ممبران کی تعداد 145 ہو جائے گی۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے قائدین نے پہلے ہی سے سابق قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نو منتخب ممبران اسمبلی کو کابینہ میں نمائندگی دینے کا فیصلہ کیاہے۔

تاریخی پس منظر

خیبر پختون خوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے پاکستان بنے کے بعد سے وفاق کے زیرانتظام چل رہے تھے۔ 1900 کے آخر میں افغانستان اور برطانوی حکومت کے درمیان ایک معاہدے کے تخت ان علاقوں کا انتظام ایف سی آر قانون کے تحت چلایا جا رہا تھا، جس میں پولیٹکل انتظامیہ کو وسیع تر اختیارات حاصل تھے۔

پاکستان بنے کے بعد قومی اسمبلی میں ان علاقوں کو محدود نمائنددگی حاصل تھی۔ 1996 میں بے نظیر بھٹو نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے تمام لوگوں کو ووٹ کا حق دینے کا اعلان کیا تھا جس پر عمل درآمد انتخابات میں شروع ہوا تھا۔ 2010 میں منظور ہونے والی اٹھارویں ترمیم کے تحت تمام تر سیاسی جماعتوں نے قبائلی علاقوں میں برطانوی دور کے نافذ کردہ نظام کو ختم کر کے سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر لوگوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی تھی۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے سابق قبائلی علاقوں سے برطانوی دور کے نافذ کردہ قانون اور نظام کے خاتمے اور قبائلی علاقوں میں سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے لئے ایک کمیشن قائم کیا تھا جس نے متفقہ طور پر قبائلی علاقوں کو خیبر پختون خوا میں ضم کرنے کی منظوری دی۔ 27 مئی2017 کو قومی اسمبلی نے آئین کے ارٹیکل 247 کو منسوخ کر کے قبائلی علاقوں کو خیبر پختون خوا میں ضم کرنے کا بل منظور کیا، جس کی توثیق گزشتہ سال 28 فروری کو خیبرپختون خوا اسمبلی نے متفقہ طور پر کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG