رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور قلندرز نے کراچی کنگز کو 22 رنز سے ہرا دیا


نہایت سنسنی خیر مقابلے کے بعد، پاکستان سپر لیگ کا پانچواں میچ لاہور قلندرز نے 22 رنز سے جیت لیا۔ کراچی کنگز کے کھلاڑیوں کا سست رفتار سے رنز بنانا ہار کا بنیادی سبب بنا، جبکہ آخری کھلاڑی ایک کے بعد ایک آؤٹ ہوتے چلے گئے۔

کنگز کو 139 رنز بنانے تھے۔ لیکن، اس کی پوری ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 116 رنز بنا سکی۔ گو کہ اس دوران، کچھ دیر کے لئے میچ میں بارش بھی ہوئی۔ لیکن، اس کے باوجود نتیجہ لاہور قلندرز کے ہی حق میں نکلا۔

لاہور قلندرز کے دیئے گئے 139 رنز کے ٹارگٹ کے تعاقب میں کراچی کنگز کا آغاز بھی کچھ اچھے انداز میں نہیں ہوا اور محض 13 رنز پر کراچی کنگز کی پہلی وکٹ گر گئی۔ لیونگ کو شاہین شاہ آفریدی نے اس وقت بولڈ کردیا جب ان کا انفرادی اسکور 11 رنز تھا۔

بابر اعظم نے لیونگ کے ساتھ ہی اننگز کا آغاز کیا تھا، جبکہ رضوان ان کا ساتھ دینے کے لئے بعد میں میدان میں آئے۔

پانچ اوووز کے اختتام تک کراچی کا اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 27 رنز تھا۔ رضوان ایک رن اور بابر اعظم 12 رنز پر کھیل رہے تھے۔

آٹھویں اوور تک بابر اعظم 20 رنز بنا چکے تھے، جبکہ محمد رضوان نے 9 رنز بنائے تھے۔ مجموعی اسکور تھا 44 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ۔

مقررہ 20 اوورز میں سے نصف اوور مکمل ہونے تک کراچی کنگز کا اسکور ایک کھلاڑی کے نقصان پر 55 رنز تھا۔ رضوان 16 اور بابر 25 رنز پر کھیل رہے تھے۔

بارہویں اوور کی پہلی گیند پر کراچی کنگز کو ایک بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کی مہنگی اور میچ وننگ وکٹ یعنی بابر اعظم 28 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ وہ وییجیون کے ہاتھوں بولڈ ہوئے۔

ان کی وکٹ 60 رنز کے مجموعی اسکور پر گری جبکہ ان کی جگہ لی انگرام نے۔ دوسرے اینڈ پر رضوان 19 رنز پر کھیل رہے تھے۔

اس دوران لاہور کے کھلاڑی اور کپتان محمد حفیظ اپنی ہی بال روکتے وقت زخمی ہوگئے۔ ان کے سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے سے خون نکلنے لگا جس کے بعد یاسر شاہ نے ایک بال کراکر 13 واں اوور مکمل کیا۔

کراچی کنگز کی جانب سے 15 اوورز کا کھیل مکمل ہونے تک رنز بنانے میں خاطر خواہ تیزی دکھائی نہیں دی جس کا نقصان یہ ہوا کہ بالوں کی تعداد کم اور رنز زیادہ ہوگئے حالانکہ کنگز کے پاس آٹھ وکٹس باقی تھیں۔

کولن انگرام کو بھی شاہین شاہ آفریدی نے بولڈ کیا۔ اس وقت انگرام کا اسکور 16 رنز تھا۔ ٹیم کا مجموعی اسکور 90 رنز تھا، رضوان 32 رنز پر کھیل رہے تھے جبکہ انگرام کی جگہ لینے والے بوپڑا کا اکاؤنٹ ابھی کھلنا باقی تھا کہ اچانک بارش شروع ہوگئی اور کھیل کو کچھ دیر کے لئے روک دیا گیا۔

کراچی کنگز کو میچ جیتنے کے لئے 28 بالوں پر 49 رنز بنانا تھے کہ اسی دوران بارش کچھ ہی دیر بعد تھم گئی اور میچ دوبارہ شروع ہوگیا۔۔

کھیل دوبارہ شروع ہوا تو بوپرا ایک رن بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ اور یوں کراچی کی چوتھی وکٹ گری۔ اسکور تھا 93۔ رضوان کریز پر موجود تھے اور انہوں نے 34 رنز بنائے تھے۔

ابھی ایک رن کا ہی مزید اضافہ ہوا تھا کہ رضوان بھی آؤٹ ہوگئے۔ ان کے آؤٹ ہوتے ہی بازی پلٹتی دکھائی دی۔

رضوان کے بعد عماد وسیم اور سکندر رضا بیٹنگ کر رہے تھے۔ کراچی کنگز کو اب بھی کم بالوں میں چالیس سے زیادہ رنز بنانا تھے۔ عماد وسیم نے کچھ تیز رفتاری سے رنز بنانے کی کوشش کی مگر وہ بھی کامیاب نہ ہوسکے اور 17 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

ان کی جگہ سہیل نے لی لیکن وہ پہلی ہی بال پر بولڈ ہوگئے جبکہ پہلے سے کریز پر موجود سکندر رضا بھی کوئی بڑا اسکور نہیں کرسکے ۔

محمد عامر نے بھی ایک ہی رن بنایا جبکہ 116 رنز پر کنگز نے 8 کھلاڑی گنوا دیئے تھے۔

نواں اور دسواں وکٹ سکندر رضا اور عثمان شنواری کی صورت میں گرا، یوں مجموعی اسکور 116 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی۔

کراچی کنگز نے لاہور کے خلاف سات بالرز استعمال کئے جن میں یاسر شاہ، شاہین شاہ آفریدی، وجیون، راحت علی ، محمد حفیظ ، حارث روف اور سہیل اختر شامل ہیں۔

راحت علی نے تین، حارث روف نے چار شاہین شاہ آفریدی نے دو اور وجیون نے ایک وکٹ لی۔

لاہور قلندرز نے 6 وکٹ پر 138 رنز بنائے
اس سے قبل لاہور قلندرز نے پی ایس ایل کے پانچویں میچ میں کراچی کنگز کو میچ جیتنے کے لئے 139 رنز کا ہدف دیا۔ لاہور نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹس کے نقصان پر 138 رنز بنائے۔

لاہور کی طرف سے سب سے زیادہ 39 رنز سہیل اختر نے بنائے جبکہ ڈیوچ، فخر زمان کا اسکور بھی اہم رہا۔

کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کو پہلے بیٹنگ کرنے کا موقع دیا۔

کراچی کنگز نے اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی مگر لاہور قلندرز کی ٹیم ایک تبدیلی کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔

کراچی ٹیم میں شامل ہیں: لیونگ اسٹون، بابر اعظم، انگرام، عماد وسیم، سکندر رضا، بوپرا، رضوان، سہیل خان، محمد عامر، عثمان شنواری اور عمر خان۔

لاہور قلندرز کی ٹیم فخر زمان، سہیل اختر، ڈویلیئر، ڈیوچ، برینڈن ٹیلر، محمد حفیظ، ہارڈس ولجوئن، یاسر شاہ، شاہین شاہ آفریدی، حارث روف اور راحت علی پر مشتمل ہے۔

فخر زمان اور سہیل اختر نے اننگز کا آغاز کیا۔ سہیل اختر نے چوکے اور فخر زمان نے ایک رنز بناکر اپنا اپنا رنز بنانے کا کھاتا کھولا۔ دوسری جانب عماد وسیم نے پہلا اوور کرایا۔ دوسرے اوور کے لئے محمد عامر کو بلایا گیا۔

پانچ اوور کے مکمل ہونے تک لاہور قلندرز کا مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے 37 رنز تھا جبکہ فخر زمان 17 اور سہیل خان 19 رنز بنا چکے تھے۔

چھ اوورز کے اختتام پر لاہور نے 50 رنز بنالئے تھے جبکہ اس کا کوئی کھلاڑی آؤٹ نہیں ہوا تھا۔ فخر 18 اور سہیل 30 رنز پر کھیل رہے تھے۔

آٹھواں اوور جاری ہی تھا کہ سہیل اختر 39 رنز پر کیچ آؤ ٹ ہوگئے۔ ان کی جگہ ڈیوچ نے لی۔ پہلی وکٹ 64 رنز پر گری۔

گیارہواں اوور جاری تھا کہ فخر زمان کو سکندر رضا نے محمد رضوان کے ہاتھوں 26 رنز پر کیچ کرادیا۔

تیسری وکٹ کے طور پر ڈیوچ کا ساتھ دینے آئے ڈویلیئرز لیکن وہ تین رنز بناکر ہی واپس ہولئے۔ انہیں عمر خان نے آؤٹ کیا جبکہ اس سے قبل عمر خان نے ہی سہیل اختر کا بہت اونچا کیچ آسانی سے پکڑ لیا تھا۔

ڈوئلیئرز کے بعد میدان میں اترنے والے اگلے کھلاڑی تھے محمد حفیظ جنہوں نے ڈیوچ کا ساتھ دینا تھا۔

پندرہویں اوور کے اختتام سے پہلے ہی حفیظ کی وکٹ گر گئی۔ وہ رن آؤٹ ہوئے جبکہ ٹیم کا مجموعی اسکور 103 ہوچکا تھا۔ انہوں نے 14 رنز بنائے جبکہ دوسرے اینڈ پر ڈیوچ کا اسکور 17 رنز تھا۔

برینڈن ٹیلر آئے تو انہوں نے نسبتاً تیز رنز بنانے کوشش کی اور کئی جان دار شاٹس کھیلے مگر کراچی کنگز کے فیلڈرز نے انہیں زیادہ موقع نہیں دیا اور وہ 13 ہی رنز جوڑ سکے جبکہ اگلی ہی بال پر ڈیوچ بھی میدان چھوڑ گئے۔ انہیں محمد عامر نے کیچ کرایا۔

اس طرح لاہور قلندر کو 19 ویں اوورز میں دو وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ دلجیون نے آٹھ اور یاسر شاہ نے بغیر آؤٹ ہوئے دو رنز بنائے۔

کراچی کنگز کی طرف سے عماد وسیم، محمد عامر، عثمان شنواری، سہیل خان، عمر خان اور سکندر رضا باری باری بالنگ کررہے ہیں۔

پوائنٹس ٹیبل پر دونوں ٹیموں کی پوزیشن

لاہور قلندرز نے رواں ایونٹ کے افتتاحی میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ سے میچ کھیلا تھا۔ تاہم، اسے پانچ وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے پاس ابھی تک کوئی پوائنٹ نہیں۔

ایونٹ کے دوسرے دن کراچی کنگز نے ملتان سلطانز کو 7 رنز سے شکست دی تھی جس کے سبب اس کے پاس دو پوائنٹس موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG