رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور میں 'سیفما' کا مرکزی دفتر سر بمہر


SAFMA, Lahore

ایل ڈی اے کے چیف ٹاؤن پلانر ندیم زیدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ سیفما کے دفتر کے خلاف کارروائی لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر کی گئی ہے۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور کے علاقے شادمان ٹو میں قائم 'ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن' (سیفما) کے مرکزی دفتر کو سیل کر دیا ہے۔

سیل کرنے کی کارروائی 'لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی' (ایل ڈی اے) کے انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے منگل کی صبح کی۔

ایل ڈی اے کے چیف ٹاؤن پلانر ندیم زیدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ 'سیفما' کے دفتر کے خلاف کارروائی لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر کی گئی ہے۔

'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' کے چئیرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ایل ڈی اے کی جانب سے 'سیفما' کی عمارت کو سیل کرنا افسوس ناک امر ہے۔ شہر بھر میں بہت سی ایسی عمارتیں ہیں جو رہائشی علاقوں میں بنائی گئیں ہیں۔ ایل ڈی اے کو ان کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے''۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ ''اگر ایل ڈی اے نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے تو امتیاز عالم کو عدالت سے رجوع کرنا چاہیے''۔

چیف ٹاؤن پلانر کے مطابق 'سیفما' کا دفتر شادمان کے رہائشی علاقے میں قائم ہے اور 'ایل ڈی اے' قوانین کے مطابق کوئی بھی شخص یا ادارہ رہائشی علاقے میں کاروباری سرگرمیاں نہیں کر سکتا جبکہ 'سیفا' ان کے بقول ایک کمرشل ادارہ ہے۔

ندیم زیدی نے دعویٰ کیا ہے کہ 'سیفما' کے دفتر کے ارد گرد رہائش پذیر افراد ادارے کی کمرشل سرگرمیوں سے بہت تنگ تھے اور انہوں نے متعدد بار اس دفتر کو یہاں سے کہیں اور منتقل کرنے کی درخواستیں دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ 'سیفما' کے دفتر کے خلاف کارروائی کافی عرصہ سے التوا کا شکار تھی لیکن آج عدالتی حکم پر دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے۔

'ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن' کے سیکریٹری جنرل امتیاز عالم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'سیفما' کے دفتر کا معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت نے اس پر حکمِ امتناع جاری کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ان کے بقول ایل ڈی اے نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے دفتر کو سیل کر دیا ہے۔

امتیاز عالم نے کہا، "اس حکم کے پیچھے کوئی اور ہے اور یہ جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے۔ ایل ڈی اے کو تو صرف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔"

امتیاز عالم نے بتایا کہ 'سیفما' کی عمارت کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے انہوں نے ایل ڈی اے میں درخواست دی ہوئی تھی کہ وہ یہاں لائبریری بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کے بقول ایل ڈی اے نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔

سیکریٹری جنرل 'سیفما' کے مطابق انہوں نے اس عمارت میں چلنے والا "ساؤتھ ایشیا میڈیا اسکول" بند کر دیا تھا اور اس بارے میں تحریری طور پر ایل ڈی اے کو آگاہ کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے۔

'سیفما' کے جنرل سیکرٹری امتیاز عالم بائیں بازو کے نظریات کے حامل دانشور ہیں جو عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے حامی تصور کیے جاتے ہیں۔

امتیاز عالم پاکستان اور بھارت کے درمیان صحافیوں کے باہمی روابط اور دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے رہتے ہیں۔

'سیفما' ہر سال 15 اگست کو پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ کی سرحد پر امن کو فروغ دینے کے لیے شمعیں بھی روشن کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG