رسائی کے لنکس

logo-print

لبنان میں سوشل میڈیا پر ٹیکس لگنے پر احتجاج، حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ


احتجاج میں شامل کئی مظاہرین کو سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لے لیا ہے

لبنان میں حکومت مخالف احتجاج کے بعد سیکیورٹی اداروں نے مظاہرین کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے اخبار 'گلف نیوز' کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے کئی مقامات پر مظاہرین کی جانب سے بند کی گئی شاہراہیں بھی بحال کر دی ہیں جبکہ دارالحکومت بیروت کے مرکز ریاض الصالح اسکوائر پر جمع ہونے والے افراد کو پانی کی توپ کی مدد سے منتشر کر دیا۔

لبنان کی انٹرنل سیکیورٹی فورس (آئی ایس ایف) کے مطابق 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حکومت کے خلاف ہفتے کے روز بھی کئی علاقوں میں احتجاج کیا گیا۔

دارالحکومت بیروت کے مرکز میں مظاہرین نے جمع ہونے کی کوشش کی تاکہ بینکوں اور دیگر بڑے کاروباری مراکز کے سامنے احتجاج کیا جا سکے۔

دوسری جانب لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری ملک میں معاشی اصلاحات کے منصوبے پر اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں سے مدد طلب کر لی ہے جبکہ انہیں پیر تک ان کے منصوبے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے لیے کہا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم سعد الحریری کی جماعت 'تیار المستقبل' کی اتحادی حکومت کو عسکریت پسند تنظیم 'حزب اللہ' اور مسیحیوں کی جماعت 'التيار الوطنی الحر' سمیت دیگر کی حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج تین روز قبل شروع ہوا تھا۔ حکومت نے جمعرات کو واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے استعمال ہونے والے وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (وی او آئی پی) کے استعمال کرنے والے صارفین پر یومیہ 20 فی صد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد جمعرات کی شام کو ہی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جبکہ جمعے کو اس میں شدت آ گئی اور کئی مقامات پر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے وی او آئی پی پر 20 فی صد ٹیکس کی تجویز واپس لے لی ہے۔

انٹرنل سیکیورٹی فورسز کے مطابق جمعے کو ہونے والے احتجاج میں جھڑپوں کے دوران 40 اہلکار زخمی ہوئے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت بیروت میں 2015 کے بعد پہلی بار اس قدر بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔

لبنان کو مسلسل خراب معاشی صورت حال کا سامنا ہے۔ ملک میں افراط زر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ شہریوں کو اکثر بجلی کی طویل بندش سمیت کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح خسارے میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق لبنان میں ہر تیسرا شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

حالیہ احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے سعد الحریری کی حکومت سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران سعد الحریری کی حکومت کی ایک اتحادی جماعت 'حزب التقدمی الاشتراكی' نے اتحاد سے نکلنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس جماعت کی 128 رکنی لبنانی پارلیمان میں نو نشستیں ہیں جبکہ مرکزی کابینہ میں اس کے دو ارکان شامل تھے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حکومتی اتحادی حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں حسن نصر اللہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ حکومت کی بھر پور حمایت کرتے ہیں جبکہ حالیہ احتجاج کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ ایک نئے ایجنڈے کی ضرورت ہے جبکہ مزید کسی محصول کی گنجائش نہیں ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر حکومت مزید کوئی اور ٹیکس لگاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ انہیں بھی مظاہرین کے ہمراہ سڑکوں پر آنا ہوگا۔

خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطی میں دیگر ممالک میں بھی حکومتوں کے خلاف احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں۔ جن میں عراق اور مصر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG