رسائی کے لنکس

مستعفی وزیرِاعظم لبنان واپس پہنچ گئے، فوجی پریڈ میں شرکت


سعد حریری

سعد حریری کے وطن واپس پہنچنے کے بعد سیاسی حلقوں اور تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ انہیں وزیرِاعظم کے اچانک اور پراسرار استعفے کی وجوہات اور مقاصد کا علم ہوسکے گا۔

تین ہفتے قبل سعودی عرب سے اپنے استعفے کا اعلان کرنے والے لبنان کے وزیرِاعظم سعد حریری وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

سعد حریری نے 4 نومبر کو سعودی عرب سے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اپنے خطاب میں سعد حریری نے کہا تھا کہ عرب ملکوں کے معاملات میں ایران اور اس کی حامی شیعہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کی مداخلت پر بطور احتجاج وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

حزب اللہ سعد حریری کی سربراہی میں ایک سال قبل بننے والی لبنان کی مخلوط حکومت میں شامل ہے جب کہ اس کے جنگجو پڑوسی ملک شام میں گزشتہ چھ برسوں سے جاری خانہ جنگی میں صدر بشار الاسد کی حامی فوج کے ساتھ لڑائی میں شریک ہیں۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک صدر اسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والی باغیوں کی حمایت کرتے ہیں۔سعودی عرب کا الزام ہے کہ حزب اللہ یمن کے حوثی باغیوں کی بھی مدد کر رہی ہے جو وہاں سعودی عرب کے اتحادی صدر عبدالربہ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق سعد حریری نے وطن واپسی کے بعد بدھ کو بیروت میں لبنان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے ہونے والی فوجی پریڈ میں صدر مائیکل عون کے ہمراہ شرکت کی۔

سعد حریری فرانس کی حکومت کی دعوت ہفتے کو ریاض سے پیرس گئے تھے جہاں انہوں نے فرانس کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

حریری منگل کو پیرس سے پہلے مصر اور پھر قبرص رکتے ہوئے بیروت پہنچے۔ قاہرہ اور قبرص میں سعد حریری نے دونوں ملکوں کے صدور سے ملاقاتیں کیں۔

اطلاعات ہیں کہ فرانس کے صدر ایمانوئیل میخواں اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی لبنان کا سیاسی بحران حل کرانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں رہنماؤں کی کوشش ہے کہ سعد حریری اپنا استعفیٰ واپس لے لیں۔

بیروت پہنچنے کے بعد سعد حریری ہوائی اڈے سے سیدھے اپنے والد اور مرحوم وزیرِاعظم رفیق حریری کی قبر پر گئے جو 2005ء میں ایک قاتلانہ حملے میں مارے گئے تھے۔

اطلاعات ہیں کہ بدھ کو فوجی پریڈ کے بعد سعد حریری، صدر عون اور لبنان کی پارلیمان کے اسپیکر سے ملاقات کریں گے جس کے بعد وہ شہر کے مرکز میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے ملیں گے۔

سعد حریری کے اچانک استعفے نے لبنان میں بحرانی کیفیت پیدا کردی تھی اور کئی بین الاقوامی رہنما اس سیاسی بحران کے حل کے لیے سرگرم ہوگئے تھے۔

لبنان کے صدر مائیکل عون، حزب اللہ، ایران اور کئی لبنانی رہنماؤں نے الزام عائد کیا تھا کہ سعد حریری کو ان کے سعودی میزبانوں نے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ہے جب کہ صدر عون نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ سعودی عرب نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

صدر عون نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ سعد حریری کا استعفیٰ اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک وہ وزیرِاعظم سے دو بدو بات نہیں کرلیتے۔

سعد حریری کے وطن واپس پہنچنے کے بعد سیاسی حلقوں اور تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ انہیں وزیرِاعظم کے اچانک اور پراسرار استعفے کی وجوہات اور مقاصد کا علم ہوسکے گا۔

مستعفی ہونے کے بعد سعد حریری نے صرف ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کا اپنے مخالفین کے ساتھ لبنان کو علاقائی تنازعات سے دور رکھنے پر معاہدہ ہوگیا تو وہ اپنا استعفیٰ واپس لے سکتے ہیں۔

لبنان مذہبی اور مسلکی طور پر ایک منقسم ملک ہے جہاں ماضی میں سنیوں، شیعوں اور مسیحیوں کے درمیان خانہ جنگی رہی ہے۔

ملک کے آئین کے مطابق صدر مسیحی، وزیرِاعظم سنی اور پارلیمان کا اسپیکر شیعہ ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG