رسائی کے لنکس

logo-print

افغان جنگ کے خاتمے کا بل امریکی سینیٹ میں پیش کر دیا گیا


افغان نیشنل آرمی کے فوجی کابل کے ایک مضافاتی علاقے میں گشت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

امریکی سینیٹ کے دو ممبران نے ایوان میں قریب دو دہائیوں سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے لئے بل پیش کر دیا ہے۔

یہ بل ایسے موقع پر پیش کیا گیا ہے جب امریکی حکام افغان طالبان کے ساتھ امریکی فورسز کی واپسی اور دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کر رہے ہیں۔

یہ بل ری پبلکن ممبر سینیٹر رینڈ پال اور ڈیموکریٹ سینیٹر ٹام اوڈال نے پیش کیا ہے، جسے افغان ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے ذریعے واشنگٹن افغانستان میں اپنی جیت کا اعلان کرے گا۔

جس میں کہا گیا ہے کہ ’’اگلے 45 دنوں میں، ایک پلان بنایا جائے گا جس کے ذریعے فورسز کی باضابطہ واپسی کا طریقہ کار طے کیا جائے گا اور ایک سال کے اندر افغانستان سے سارے امریکی فوجی واپس بلا لیے جائیں گے۔ اور سیاسی مفاہمت کے طے کیے جانے والے فریم ورک کو افغانستان اپنے آئین کے تحت نافذ کرے گا اور اس عمل میں اسے کی معاونت کی جائے گی۔‘‘

سینیٹر پائل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’طویل جنگ ہماری قومی سیکورٹی کو کمزور، ہماری آئندہ نسل کے مستقبل کو شدید قرض کی وجہ سے تباہ اور ہمارے مزید دشمن پیدا کرتی ہے جو ہمارے لئے خطرہ ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملے پر القاعدہ کو سزا دینے کا مشن پورا ہو چکا ہے اور اب وقت ہے کہ اس طویل جنگ کو ختم کیا جائے۔

پاول کا کہنا تھا کہ افغان جنگ میں امریکی فوج نے 2300 سے زائد اہل کاروں کی قربانی دی ہے اور تقریباً 20 ہزار زخمی ہوئے۔ اس جنگ میں امریکہ نے اب تک دو ٹرلین ڈالر کا خرچ برداشت کیا ہے اور ہر سال اس جنگ پر 51 ارب ڈالر کا اضافی خرچ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم امریکہ کی مقامی ضروریات میں خرچ کی جا سکتی ہے۔

اس بیان میں سینیٹر اوڈال نے لکھا کہ جلد ہی اب امریکہ اس جنگ میں ایسے فوجی بھیجنا شروع کر دے گا جو جنگ شروع ہونے کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ملک کی طویل ترین جنگ کے بارے میں مختلف انداز سے سوچنا شروع کر دیں۔

سینیٹر پاول نے اس بل کے پیش کئے جانے سے پہلے اپنے ایک ویڈیو پیٖغام میں اس جنگ میں کئے گئے بے جا اخراجات کا ذکر کیا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں سوال اٹھایا کہ اب افغانوں کو اپنے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں جیت کا اعلان کرے اور اب یہ اپنے ملک میں تعمیر کا وقت ہے نہ کہ افغانستان میں۔

یہ بل ایسے موقع پر پیش کیا گیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرت میں مصروف ہے تاکہ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ ختم ہو سکے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا تھا کہ اگر مذاکرات مثبت رہے تو وہ افغانستان میں موجود امریکی افواج میں کمی کر سکتے ہیں۔

افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا موجودہ دور قطر میں جاری ہے۔ امریکی ٹیم کی قیادت زلمے خلیل ذاد کر رہے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی فریق نے کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا ہے۔

پچھلے برس کی خزاں کے بعد سے مذاکرات میں تسلسل آیا ہے اور دونوں فریقین نے مذاکرات میں پیش رفت کے بیانات دئے ہیں۔

طالبان کا کہنا ہے کہ اب تک مذاکرات اس بات پر ہو رہے ہیں کہ امریکی افواج کب خطے سے نکل جائیں گی اور انخلا کے بعد کیا گارنٹیاں دی جائیں گی جن میں طالبان سے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملے روکنا ہے۔

طالبان نے، جو افغانستان کے آدھے سے زیادہ رقبے پر اپنا اثرو رسوخ رکھتے ہیں، افغان حکومت سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

17 سال سے جاری اس جنگ میں محتاط اندازوں کے مطابق اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عام شہری، افغان اور بین الاقوامی فورسز کے اہل کار، غیر ملکی کنٹریکٹر اور شورش پسند شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 2018 میں افغانستان میں تقریباً 4000 عام شہری ہلاک ہوئے جو ایک عشرے دوران اس ملک میں جاری لڑائیوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG