رسائی کے لنکس

logo-print

بغاوت کیس: نواز شریف، شاہد خاقان، سرل المیڈا عدالت میں پیش


صحافی سرل المیڈا لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونے آ رہے ہیں۔

عدالت نے صحافی سرل المیڈا کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری بھی واپس لے لیے۔

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی اور صحافی سرل المیڈا کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

عدالت نے 'ڈان' اخبار سے منسلک سرل المیڈا کے پیش ہونے پر ان کے خلاف جاری ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی واپس لے لیے ہیں اور ان کا نام 'ایگزٹ کنٹرول لسٹ' (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے پیر کو سابق وزرائے اعظم کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس مسعود جہانگیر شامل ہیں۔

سماعت کے دوران نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور سرل المیڈا عدالت میں پیش ہوئے۔

شاہد خاقان عباسی 24 ستمبر کو ہونے والی مقدمے کی گزشتہ سماعت پر بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے جب کہ عدالت نے نواز شریف کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے مسلسل تین سماعتوں سے غیر حاضر رہنے پر سرل المیڈا کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا تھا۔

درخواست گزار آمنہ ملک نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے انگریزی اخبار 'ڈان' کو دیے جانے والے ایک متنازع انٹرویو کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے وزارتِ عظمیٰ کے حلف کی پاسداری نہیں کی اور اس لیے دونوں کے خلاف بغاوت کی کارروائی کی جائے۔

'ایسے مقدمات تو مارشل لا کے زمانے میں بنتے تھے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:38 0:00

پیر کو عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے پوچھا کہ کیا نواز شریف آ گئے ہیں؟ نوا شریف کے وکیل نصیر بھٹہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ کمرۂ عدالت میں موجود ہیں۔

جسٹس نقوی نے نواز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ "ذرا چہرہ ہی دکھا دیں۔" اس پر نواز شریف اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے۔

بینچ کے سربراہ نے سوال کیا کہ کیا شاہد خاقان اور سرل المیڈا بھی آ گئے ہیں؟ اس پر دونوں کے وکلا نے بتایا کہ وہ بھی کمرۂ عدالت میں موجود ہیں۔

جسٹس مظاہر اکبر نے سرل المیڈا کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ آپ کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر عدالت نے صحافی سرل المیڈا کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری بھی واپس لے لیے۔

سماعت کے دوران شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے مؤکل 14 اکتوبر کو ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں، اس لیے کارروائی انتخابات کے بعد تک ملتوی کی جائے۔

عدالت نے سابق وزیرِ اعظم کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 22 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

رواں سال مئی میں پنجاب کے وسطی شہر ملتان میں ایک جلسے سے قبل سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے 'ڈان' کے رپورٹر سرل المیڈا کو دیے گئے انٹرویو میں بظاہر یہ تاثر دیا تھا کہ 2008ء میں بھارت کے شہر ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد پاکستان سے بھیجے گئے تھے۔

انہوں نے عسکری تنظیموں کو 'غیر ریاستی عناصر' قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ آخر پاکستان میں اب تک ممبئی حملوں کے ملزمان کا ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہوسکا ہے؟

نواز شریف کے بیان پر اس وقت کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس ہوا تھا جس نے اس بیان کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا تھا۔

درخواست گزار آمنہ ملک نے عدالت میں دائر اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ نواز شریف نے متنازع انٹرویو دے کر ملک اور قوم سے غداری کی جب کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیراعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی۔

اس لیے درخواست گزار کے بقول دونوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت بغاوت کی کارروائی کی جائے۔

سماعت کے بعد وائس آف امریکہ کے نمائندے نے سرل المیڈا سے گفتگو کرنے کی کوشش کی لیکن وہ گفتگو کرنے سے گُریز کرتے رہے۔ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھی اس موقع صحافیوں سے بات چیت نہیں کی۔

سماعت کے بعد درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافیوں کے خلاف نہیں بلکہ وہ خود چاہتے ہیں کہ پاکستان میں آزادانہ صحافت ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف لاہور کے رہنے والے ہیں لیکن ان کے بقول لاہور کے صحافیوں کو انٹرویو دینے کی بجائے سابق وزیرِ اعظم نے خصوصی طیارے پر سرل المیڈا کو ملتان بلوایا اور متنازع انٹرویو دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG