رسائی کے لنکس

مجھے اقتدار کا لالچ نہیں: نواز شریف


کیا منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجنے والوں کا احتساب نہیں کرنا چاہئے؟ نواز شریف نے لاہور میں ریلی سے جارحانہ خطاب کیا اور بعد میں رائیونڈ پہنچے۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے کے مطابق، "ریلی کے لاہور میں داخل ہونے پر دور دور تک انسانوں کا ہجوم تھا"

ڈھول کی تھاپ اور پر جوش سیاسی کارکنوں کے ساتھ لاہور میں داخل ہونے والا عوام کا ہجوم راولپنڈی سے مسلم لیگ ن کے برطرف وزیر اعظم کے ہمراہ چلا تھا یا پہلے ہی سے ان کے استقبال کے لیے گجرات، گوجرانوالہ، مریدکے، کامونکی اور شاہدرہ کے بعد داتا صاحب کے مقام پر موجود تھا؟

کیا نواز شریف کے حامیوں کی تعداد لاکھوں میں تھی؟ ہزاروں یا سینکڑوں میں؟ ایسے اور ان جیسے دیگر سوالوں اور ان کے جوابات پر بحث آئیندہ کئی دنوں تک پاکستان کے اندر اور سوشل میڈیا پر جاری رہے گی۔

پاکستان کے مختلف ٹیلی ویژن چینل اپنی اپنی پالیسی کے مطابق ریلی کے شرکاٗ کی مختلف تعداد رپورٹ کر رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے کنور رحمان خان کے مطابق، "ریلی کے لاہور میں داخل ہونے پر دور دور تک انسانوں کا ہجوم تھا"۔

تاہم سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے اپنی ریلی کی حتمی منزل لاہور پہنچ کر اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لئے اس کے آئین اور قانون کو بدلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اب ڈرتے نہیں،اور نہ ہی اب وہ گھر بیٹھیں گے۔

'ہمیں آئین اورنظام بدلنا ہوگا، تیس تیس سال سے مقدمے لٹکے ہوئے ہیں،کیا فیصلے ہوتے ہیں؟ جب تک بنیادی نظام ٹھیک نہیں ہوگا ، دنیا میں پاکستان کا تماشہ بنے گا، ملک کی تقدیربدلنے کے لیے ہمیں اس سسٹم کوبدلنا ہوگا، اس سسٹم میں وائرس ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'مجھے یہ کہہ کرنااہل کردیا گیا کہ بیٹے سے تنخواہ کیوں نہ لی۔ مجھے نااہل کرنے کی وجہ کیا آپ کو سمجھ آتی ہے؟ تنخواہ نہیں لی توکیا ہوا،اگرلے بھی لیتا توکیا حرج تھا؟'

انہوں نے کہا کہ 'پانچ لوگوں نےمجھےنااہل قراردےدیا، مجھے نااہل کرنے والےخود کیا اہل ہیں؟'

نواز شریف نے ایک بار پھر کہا کہ کیا عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آنے والے وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کا کھیل تماشہ کرنے والوں کا احتساب نہیں ہونا چاہئے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اقتدار کا لالچ نہیں۔

نواز شریف نے اپنی تقریر میں کوئٹہ میں فوج کی گاڑی پر ہونے والے مبینہ خود کش حملے کی مذمت بھی کی اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا۔

وائس آف امریکہ کی نمائندہ ثمر خان کی رپورٹ کے مطابق، ریلی کے راستوں پر مسلم لیگ ن کے سیاسی کارکن موجود رہے۔ ریلی کے استقبال کے لئے داتا صاحب پوائینٹ پر گھوڑوں کی سلامی کا بندوبست کیا گیا تھا۔ شاہدرہ، آزادی فلائی اوور اور داتا دربار کے مقام پر سجائے جانے والے تین الگ الگ سٹیجوں پر کرسیوں، لائیٹوں اور ڈے جے سسٹمز کا استعمال کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق، نواز شریف اور ان کے ساتھی اراکین اسمبلی کے لئے اسٹیج پر 50 کے قریب کرسیاں لگائی گئی تھیں۔

کارکنوں میں پر جوش مرد حامیوں کے ساتھ خواتین بھی شامل تھیں، جن کا کہنا تھا کہ اپنے قائد کے استقبال کے لئے دھوپ میں دس دن بھی کھڑا ہونا پڑتا تو کھڑی رہتیں۔

استقبال کے لئے موجود ایک خاتون کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کے خلاف کئے گئے فیصلے کو عوام نہیں مانتی۔

وی او اے کے نمائندوں کے مطابق، ریلی میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ پنجاب بھر میں موجود چھ موبائل ہیلتھ یونٹس میں سے چار موبائل ہیلتھ یونٹ سابق وزیر اعظم کی ریلی کے روٹ پر لگائے گئے تھے۔

نواز شریف کے سیاسی پاور شو کا آخری روز
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:18 0:00

ایک موبائل ہیلتھ یونٹ کے انچارج نے وی او اے کو بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ان کی بروقت موجودگی یقینی بنانا ضروری تھی۔ انچارج کے بقول، ان کے صرف ایک موبائل یونٹ کے ساتھ دو ڈاکٹرز کی قیادت میں پیرا میڈک عملے کے تیس کے قریب ارکان موجود رہے۔

اطلاعات کے مطابق، لاہور میں نواز شریف کی آمد پر سات اونٹ بھی قربان کئے گئے۔

یاد رہے کہ لالہ موسیٰ میں ریلی کے قافلے میں شریک ایک کار کے نیچے کچلے جانے والے نو سالہ بچے، حامد کی نماز جنازہ آج ادا کر دی گئی۔ سابق وزیر اعظم نے ہلاک ہونے والے بچے کے ورثاٗ سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ تاہم، بچے کے موت کا مقدمہ نا معلوم کار سواروں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے مشن جی ٹی روڈ پر نکلنے والا یہ سیاسی کارواں داتا دربار میں نواز شریف کی تقریر کے بعد منتشر ہو گیا۔ نواز شریف برطرفی کے بعد پہلی مرتبہ جاتی عمرہ رائے ونڈ پہنچے ہیں۔

نواز شریف کی شاہدرہ آمد
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:19 0:00

XS
SM
MD
LG