رسائی کے لنکس

logo-print

لیبیا میں نیٹو کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے وزراء خارجہ کا اجلاس


دوحہ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیہ میں شرکاء کا کہنا تھا کہ مسٹر قذافی کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیئے

نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ لیبیا میں جاری فوجی کارروائی کا جائزہ لینے کے لیے جرمنی میں جمع ہو رہے ہیں۔

جمعرات کو برلن میں شروع ہونے والے دوروزہ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن بھی شرکت کر رہی ہیں۔

لیبیا میں معمر قذافی کی وفادار فورسز کے خلاف بمباری کی مہم کو وسعت دینے پر اتحاد کے رکن ممالک اختلاف رائے کا شکار ہیں۔ برطانیہ اور فرانس اتحادیوں سے فوجی آپریشن میں تیزی لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جب کہ امریکہ اس عمل میں اپنا کردار محدود کرنے کی کوشش میں ہے۔

باغی فورسز نیٹو پر زور دے رہی ہیں کہ وہ معمر قذافی کی افواج پر فضائی حملوں میں اضافہ کرے۔

ایک روز قبل لیبیا سے متعلق بین الاقوامی رابطہ گروپ جس میں امریکہ ، یورپ اور عرب ملکوں کے سفارت کار شامل ہیں، نے دوحہ میں منعقدہ اجلاس کے دوران لیبیائی حکومت کے مخالفین کو پہلے سے زیادہ مالی و سیاسی اعانت کا یقین دلایا تھا۔ رابطہ گروپ کے اجلاس میں شریک لیبیائی باغیوں کے ایک ترجمان نے شہریوں کے تحفظ کے لیے نیٹو کے اقدامات کو ناکافی قرار دیا اور فضائی کارروائی میں امریکہ کے کردارمیں اضافے کا بھی مطالبہ کیا۔

دوحہ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیہ میں شرکاء کا کہنا تھا کہ مسٹر قذافی کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیئے کیوں کہ وہ اور اُن کی حکومت ”قانونی جواز سے محروم ہو چکے ہیں“۔

امریکی محکمہ دفاع نے بدھ کوتصدیق کی کہ 11 لڑاکا طیاروں کو نیٹو کمان کے حوالے کیا جا چکا ہے جو مقررہ اہداف پر فضائی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ واشنگٹن پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ اب امریکہ کا کردار لڑائی میں براہ راست حصہ لینے والے اتحادی کا نہیں بلکہ لیبیا میں جاری آپریشن کے حامیوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG