رسائی کے لنکس

لیبیا کو افراتفری سے بچانے کے لیے فوری منصوبہ بندی پر زور


لیبیا کو افراتفری سے بچانے کے لیے فوری منصوبہ بندی پر زور
لیبیا کو افراتفری سے بچانے کے لیے فوری منصوبہ بندی پر زور

امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے کہا ہے کہ لیبیا کے لیڈر معمر قذافی کو اپنا عہدہ چھوڑنا ہوگا۔ یہ ملک سویلین آبادی کو بچانے کے لیئے روزانہ ہوائی حملے کر رہے ہیں جن سے ان باغیوں کی مدد ہو رہی ہے جو قذافی کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ان کی کوششیں کامیاب ہو گئیں تو لیبیا کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے کیوں کہ وہاں وہ تمام عوامل موجود ہیں جن کے نتیجے میں عراق اور افغانستان میں حکومتیں ختم ہونے کے بعد، برسوں تک ملک میں بدامنی پھیلی رہی تھی۔

2003 میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کے نتیجے میں جب صدام حسین کا تختہ الٹ دیا گیا، تو امریکی عہدے داروں کو پتہ چلا کہ ان کے پاس ملک بھر میں لوٹ مار اورلا قانونیت ختم کرنے کے لیئے کافی فوجی نہیں ہیں اور نہ ہی ا ن کے پاس حکومت چلانے اور برسوں تک بغاوت سے نمٹنے کے لیئے کوئی تفصیلی منصوبہ ہے ۔ سکیورٹی کے ماہرجان پائک کہتے ہیں کہ لیبیا میں قبائلی رقابتیں، بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی موجودگی، سابق فوجی اور قذافی کی حکومت کے حامی موجود ہیں۔

’’معمر قذافی اتنے عرصے سے ملک پر حکومت کر رہے ہیں کہ لیبیا میں کوئی موثر ادارے وجود میں نہیں آ سکے ہیں جو ان کی غیر موجودگی میں ملک کو چلا سکیں۔ قذافی کے جانے کے بعد، ایک بین الاقوامی فورس ضروری ہو گی جو ملک میں استحکام قائم کر سکے ورنہ اسی قسم کی افرا تفری پھیل جائے گی جیسی عراق میں صدام حسین کا مجسمہ گرائے جانے کے بعد دیکھنے میں آئی تھی۔‘‘

نیٹو کے آپریشنل کمانڈر، امریکی بحریہ کے ایڈمرل جیمز اسٹاوریڈس نے دو ہفتے قبل امریکی سینیٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے، قذافی کے بعد کے دور میں کسی قسم کی بین الاقوامی فورس کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ نیٹو کی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو بوسنیا، کوسووو کی طرح، لیبیا میں بھی حالات کو مستحکم کرنے کے لیئے بین الاقوامی فورس ضروری ہو گی۔

امریکہ کی افریقہ کمانڈ کے سربراہ جنرل کارٹر ہیم نے کہا کہ اس قسم کی فورس میں امریکی فوجی شامل ہو سکتے ہیں، لیکن ایسا کرنا مناسب نہیں ہو گا کیوں کہ اس سے علاقے کے لوگوں میں منفی رد عمل کا امکان ہے ۔ تین ہفتے قبل لیبیا کے آپریشن کی ابتدائی کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ وہ اس مقصد کے لیئے امریکہ کی بری فوج تعینات نہیں کریں گے۔

اب فوج کے اعلیٰ افسر بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر مسٹر قذافی کو اقتدار چھوڑنا پڑتا ہے تو لیبیا میں غیر ملکی فوج کی ضرورت ہوگی۔ تا ہم پینٹا گان کے عہدے دار یہ نہیں بتا سکتے کہ کس قسم کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

وہ یہ کہتے ہیں کہ لیبیا میں نیٹو کے فوجی مشن کی قیادت یورپی اتحادیوں کے پاس ہے، اور جنگ ختم ہونے کے بعد وہاں استحکام قائم کرنے کی ذمہ داری بھی انہیں کی ہوگی۔ سکیورٹی کے تجزیہ کار جان پائک کہتے ہیں کہ بظاہر امریکہ کے محکمہ دفاع، یا محکمہ خارجہ میں اس بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں ہو رہی ہے اور یہ کام اٹلی، فرانس اور برطانیہ پر چھوڑ دیا جائے گا۔ انہیں یقین نہیں کہ ان ملکوں کے پاس استحکام قائم کرنے کے لیئے وسائل موجود ہوں گے۔

تا ہم، امریکہ کے انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی ماہر بیتھ کول زیادہ پرامید ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکہ اور نیٹو میں اس کے اہم اتحادیوں کو حالیہ برسوں کے دوران عراق، افغانستان، اور کوسووو میں اس قسم کے کام کا تجربہ ہے اور وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیں گے۔

’’میں سمجھتی ہوں کہ ہم نے گذشتہ عشرے میں کچھ سبق سیکھے ہیں، اور نیٹو، امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دوسرے ملک جنھوں نے اس قسم کی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے ، اس کام میں کچھ زیادہ معلومات اور شراکت داری کےجذبے کے ساتھ شرکت کر رہے ہیں ۔‘‘

کول کہتی ہیں کہ بند دروازوں کے پیچھے امریکی حکومت کی ایجنسیوں میں لیبیا کے بارے میں منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور محکمہ خارجہ، محکمہ دفاع اور یو ایس ایڈ بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرار داد کے چار ہفتے بعد بھی جس میں طاقت کے استعمال کا اختیار دیا گیا تھا، منصوبہ بندی کا کام ابتدائی مراحل میں ہے۔ ابھی بنیادی مقاصد اور ذمہ داریوں کی تقسیم کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے ۔

لیبیا کو افراتفری سے بچانے کے لیے فوری منصوبہ بندی پر زور
لیبیا کو افراتفری سے بچانے کے لیے فوری منصوبہ بندی پر زور

کول کہتی ہیں کہ لیبیا میں قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے، معیشت کو مستحکم کرنے اور ایک موثر حکومت قائم کرنے کے لیئے پہلی شرط یہ ہے کہ وہاں سکیورٹی قائم کی جائے جو خاصا مشکل کام ہے۔’’اس قسم کے ماحول میں کچھ بھی کرنے کے لیئے سیکورٹی پہلی شرط ہے ۔ ہمارے سامنے سیکورٹی کے بہت سے چیلنج ہیں جن سے نمٹنے کے لیئے ہمیں شاید، شروع کے دور میں، خاصی طاقتور فوج کی ضرورت ہو گی۔‘‘

کول کہتی ہیں کہ قذافی کے بعد کے لیبیا کی منصوبہ بندی ابھی ابتدائی دور میں ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغربی عہدے داروں کی توجہ بہت سے دوسرے فوری نوعیت کے بحرانوں پر رہی ہے۔ تیونس، مصر ، جاپان، آئیوری کوسٹ اوراب شام، یمن اور لیبیا، ان تمام ملکوں میں صرف لیبیا ہی ایسا ملک ہے جہاں مغربی ملکوں کی فوجی طاقت استعمال ہوئی ہے اور جہاں نیٹو نے حکومت میں تبدیلی کو اپنا سیاسی مقصد قرار دیا ہے ۔ ماہرین کہتےہیں کہ بہت کم وقت میں بہت زیادہ تیاری کی ضرورت ہے تا کہ اتحادی ممالک کو ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے جو عراق اور افغانستان میں ابتدائی مقاصد حاصل کرنے کے بعد پیدا ہوئے تھے ۔

XS
SM
MD
LG