رسائی کے لنکس

'لیبیا میں متحارب گروہوں کو اسلحہ فراہمی کی پابندی پر عمل نہیں ہو رہا'


فائل فوٹو
فائل فوٹو

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ لیبیا میں متحارب گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی پابندی پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ مختلف ممالک کی جانب سے اس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک سمٹ ہوئی تھی جس میں مختلف عالمی طاقتوں نے شرکت کی تھی جن میں سے بعض لیبیا کے دارالحکومت پر قبضے کے لیے لڑنے میں مصروف گروہوں کی پشت پناہی بھی کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس سمٹ میں عالمی قوتوں پر زور دیا تھا کہ وہ لیبیا میں جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی متحارب گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی پابندی پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ جس پر اتفاق بھی کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مشن برائے لیبیا (یو این ایس ایم آئی ایل) کے مطابق گزشتہ دس دن میں لیبیا کے مشرقی اور مغربی حصوں میں ہوائی اڈوں پر بڑی تعداد میں کارگو جہاز آئے ہیں۔ دونوں متحارب گروہوں کو انتہائی جدید اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لڑائی میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، مشیر اور جنگجو بھی دیے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مشن برائے لیبیا نے بیان میں مزید کہا ہے کہ یہ تمام خلاف وزریاں قابل مذمت ہیں۔ اس سے لیبیا ایک اور شدید لڑائی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

بیان میں کسی کا نام لیے بغیر ان ممالک پر الزام عائد کیا گیا جن کے نمائندے برلن میں ہونے والی سمٹ میں موجود تھے۔

خیال رہے کہ کمانڈر خلیفہ حفتر گزشتہ 10 ماہ سے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے اقوام متحدہ کی منظور شدہ حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ان کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور مصر کی پشت پناہی حاصل ہے جب کہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ حکومت کی مدد ترکی کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے لیبیا میں لڑائی رک چکی ہے البتہ گزشتہ روز سے دارالحکومت میں بھاری توپ خانے کے گولوں کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ برلن میں ہونے والے سمٹ میں ترکی، متحدہ عرب امارات اور مصر کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے تھے جب کہ اس سمٹ میں یورپی یونین، امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔

جرمنی نے لڑائی میں مصروف گروہوں کے سربراہان لیبیا کے وزیر اعظم فیض السراج اور کمانڈر خلیفہ حفتر کو بھی مدعو کیا تھا۔ ان دونوں نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں تاہم دونوں نے سمٹ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

لیبیا میں 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے اور ان کے قتل کے بعد سے خانہ جنگی جاری ہے۔ مختلف گروہ ملک پر حکمرانی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

XS
SM
MD
LG