رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد: تبلیغی جماعت کے 6 ارکان میں کرونا وائرس کی تصدیق


فائل فوٹو

پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ملک بھر میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 803 تک پہنچ گئی ہے۔

اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں تبلیغی جماعت کے چھ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

وائس آف امریکہ کے اسلام آباد میں موجود نمائندہ عاصم علی رانا کے مطابق اسسٹنٹ پولیس افسر بھارہ کہو حمزہ امان اللہ کا کہنا ہے کہ کوٹ ہتھیال کے علاقے میں چھ غیر ملکیوں سمیت 13 افراد پر مشتمل ایک جماعت تبلیغ پر تھی جس میں شامل ایک غیر ملکی شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

اُن کے بقول، تبلیغی جماعت میں شامل پانچ مزید افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا جس کے بعد کوٹ ہتھیال کے خارجی و داخلی راستوں پر پولیس تعینات کر دی ہے۔

اے ایس پی بھارہ کہو کا کہنا ہے کہ پورے علاقے کو قرنطینہ میں بدل دیا گیا ہے جب کہ ضلعی انتظامیہ اہلِ علاقہ کے ٹیسٹ کرائے گی۔

حمزہ امان اللہ کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں دودھ، کریانہ، بیکری کے علاوہ باقی دکانیں بند کرا دی گئی ہیں۔

پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد 6 ہو گئی

پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید تین مریض چل بسے جس کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

پاکستان میں پیر کی صبح تک کرونا وائرس کے مزید 27 نئے کیسز سامںے آئے ہیں اور اب تک اس وائرس کے چھ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

کرونا وائرس سے صوبۂ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں متاثرہ مریضوں کی تعداد 352 ہو گئی ہے۔

پنجاب میں 225، بلوچستان میں 108، خیبر پختونخوا 31، دارالحکومت اسلام آباد میں 15، پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان میں 71 اور کشمیر میں کرونا وائرس کا ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔

پاکستان میں پیر کی صبح تک کرونا وائرس کے مزید 27 نئے کیسز سامںے آئے ہیں۔
پاکستان میں پیر کی صبح تک کرونا وائرس کے مزید 27 نئے کیسز سامںے آئے ہیں۔


صوبۂ سندھ میں لاک ڈاؤن

پاکستان کے صوبۂ سندھ کی حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کراچی سمیت مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر سناٹا ہے۔

پولیس اور رینجرز نے سڑکوں پر گشت بڑھا دیا ہے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے والے شہریوں کو واپس گھروں کو لوٹایا جا رہا ہے۔

لاک ڈاؤن کے باعث سندھ کے دو بڑے ہوائی اڈے بھی مقامی پروازوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری نوٹم کے مطابق کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سکھر ایئر پورٹ مقامی پروازوں کے لیے بند رہے گا۔ مقامی پروازوں پر پابندی کا اطلاق 24 مارچ کی صبح 6 بجے سے ہوگا۔

یومِ پاکستان کی تقریبات منسوخ

پاکستان بھر میں 80واں یومِ پاکستان سادگی سے منایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ہونے والی تمام سرکاری و غیر سرکاری تقاریب منسوخ کر دی گئی ہیں۔ تاہم دن کے آغاز پر وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21,21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

یومِ پاکستان کے سلسلے میں ہونے والی فوجی پریڈ بھی منسوخ کر گئی ہے جس میں پاکستان کی فوجی طاقت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

یوم پاکستان سے متعلق قومی اعزازات کی مرکزی تقریب بھی ایوانِ صدر میں ہونا تھی جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مختلف شخصیات کو عسکری و سول اعزازات سے نوازنا تھا۔ تاہم مرکزی تقریب کے ساتھ ساتھ گورنر ہاؤسز میں ہونے والی اعزازات کی تقاریب بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اعزازات کی تقریب صورتِ حال بہتر ہونے پر منعقد کی جائے گی۔

اسی طرح کراچی میں مزارِ قائد اور لاہور میں مزارِ اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب نہیں ہوئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG