رسائی کے لنکس

logo-print

لاک ڈاؤن میں تیل کا بحران، معاہدے پر یکم مئی سے عمل درآمد ہوگا


دنیا میں تیل کی اضافی مقدار کی موجودگی اور کرونا کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتوں کی بندش کے سبب اس کی مِانگ میں کمی سے قیمتوں کا ایک بحران پچھلے کچھ عرصے سے جاری ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اب جب کہ امریکہ سمیت دنیا کے بعض خطوں میں معاشی سرگرمیاں بحال ہوں اور اوپیک اور اوپیک سے باہر کے تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے درمیان تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے معاہدے سے، جس پر یکم مئی سے عمل درآمد ہونا ہے، تیل کی قیمتوں میں کچھ استحکام پیدا ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔

لیکن اگر تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے تو پاکستان جیسے ملکوں کے لیے یہ ایک بری خبر ہوگی، جہاں اس وقت اس مد میں اربوں ڈالر کی بچت ہو رہی ہے۔

تیل کی صنعت کے تجزیہ کار مسعود ابدالی کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت اوپیک کے ممالک اور روس اپنی تیل کی پیداوار میں 97 لاکھ بیرل کی اور امریکہ، برازیل، ناروے اور کینیڈا مجموعی طور پر پیداوار میں 34 لاکھ بیرل کی کمی کریں گے۔

خیال رہے کہ اس وقت 100 ملین بیرل تیل روزانہ نکل رہا ہے، جب کہ لاک ڈاؤن کے سبب کھپت 75 ملین بیرل کی رہ گئی ہے اور یوں رسد سے زیادہ تیل منڈی میں آنے کی وجہ سے اس وقت 60 سے 70 ملین بیرل اضافی تیل مارکیٹ میں موجود ہے۔

تجزیہ کار مسعود ابدالی کا کہنا ہےکہ اس اضافی تیل کا اسٹوریج ایک الگ اور بڑا مسئلہ ہے۔ اور اب خریدار مستقبل کے معاہدے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اندر بھی صورتِ حال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ یہاں بھی لاک ڈاؤن کے سبب تیل کی کھپت کوئی آدھی رہ گئی ہے اور یہاں بھی اضافی تیل کے اسٹوریج کا مسئلہ درپیش ہے۔

امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ (اے پی آئی) کے مطابق اس وقت یہاں کوئی ایک کروڑ بیرل اضافی تیل پڑا ہوا ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ 'یونائیٹڈ اسٹیٹس آئل فنڈ' نے اعلان کیا ہے کہ وہ جون کے بعد تیل کے مستقبل کے کوئی ٹھیکے نہیں لے گا۔

ایک اور بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس وقت امریکہ میں تیل کی چھوٹی بڑی نو ہزار کمپنیاں ہیں اور امریکہ نے جو تیل کی پیداوار میں کمی کا معاہدہ کیا ہے، اس پر کس طرح عمل ہو سکے گا؟ اتنی بہت ساری کمپنیوں پر اس کٹوتی کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اور بڑی کمپنیاں اگر اس تقسیم پر راضی بھی ہو جائیں تو چھوٹی کمپنیوں کو کیونکر راضی کیا جاسکے گا؟

مسعود ابدالی کا کہنا ہے کہ معاہدے پر یکم مئی سے عمل درآمد ہونا ہے۔ روس اور کویت نے کٹوتی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اضافی تیل کب ختم ہوتا ہے؟ طلب میں کتنا اضافہ ہوتا ہے، اور معاہدے کے مطابق، پیداوار میں کٹوتی کتنی موثر ثابت ہوتی ہے؟ یہی وہ چیزیں ہیں جو تیل کی منڈی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG