رسائی کے لنکس

پاکستان کی ورسٹائل اداکارہ اور فیشن آئیکون ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں تبدیلی آ رہی ہے۔ یہاں مثبت اور تعمیری سوچ رکھنے والے رہتے ہیں۔

لندن میں برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کو انٹرویو میں ماہرہ خان نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’عام طور پر ہم کسی کے بارے میں بھی ایک خاص تاثر بنا لیتے ہیں اور پھر تحقیق کئے بغیر اسے ہی آگے بڑھا دیتے ہیں‘‘۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا ’’عام طور پر مغرب میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ تمام مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں یا پھر پاکستانی خواتین ہمیشہ ظلم وستم کا شکار ہوتی ہیں۔ اور، پاکستانی مرد بس تشدد ہی کرتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ میں نہ صرف انفرادی طور پر اپنی شخصیت بلکہ پاکستان کی ہر عورت کی نمائندگی کرتی ہوں۔ میں حجاب پہنوں یا نہ پہنوں یہ میرا فیصلہ ہے اور پاکستانی خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے فیصلے آسانی سے کرسکتی ہے۔‘‘

معاشرے کے بارے میں ایک سوال پر ماہرہ نے کہا کہ پاکستان تبدیلی کے لئے تیار ہے۔ اب لوگ زیادہ کھل کر بلند آواز میں سچائی اور حق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں۔ قصور کی ننھی زینب کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے۔ پوری قوم ناراض تھی۔ لوگ سڑکوں پر آئے اور زینب کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا۔

’می ٹو‘ موومنٹ پر ماہرہ خان نے کہا کہ دفاتر یا دوسری کام کی جگہوں پر ہراساں کئے جانے کی بات کریں تو جب سے میں شوبز میں آئی ہوں مجھے کبھی ہراساں کیا گیا نہ ہی کوئی زیادتی ہوئی۔ یہ ضرور ہے کہ ہر عورت کی طرح میری اپنی بھی ’می ٹو‘ اسٹوری ہے۔ لیکن، میرا نظریہ یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی ذاتی چیز یا تجربہ شیئر کرنا چاہتا ہے تو ایسے وقت میں کرے جب وہ خود چاہے، کسی تحریک کے لئے نہیں۔

کسی بھی عام پاکستانی مڈل کلاس خاندان کی عام سی لڑکی کی طرح ماہرہ خان نے دو سال امریکہ میں پڑھائی میں گزارے۔ ماہرہ کے بقول، اس تجربے نے انہیں نئی زندگی سے روشناس کرایا۔ سترہ سال کی عمر میں خیال رکھنے اور تحفظ فراہم کرنے والے خاندان سے دور ہو کر دو دو نوکریاں کرنا ہر چیز خود مینج کرنا۔ الگ الگ مزاج اور طریقے کے لوگوں سے ملنا اس سب نے مجھ میں بہت برداشت پیدا کی۔‘‘

ماہرہ خان نے اپنے شوبز کیرئیر کا آغا ایم ٹی وی پاکستان پر بطور پریزنٹر شروع کیا۔ پھر 2011 میں شعیب منصور کی فلم ’بول‘ سے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور اچھی اداکاری پر داد حاصل کی۔

ٹی وی سیریل ’ہمسفر‘ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے اور سرحد پار یعنی بھارت میں بھی ماہرہ خان کے پرستاروں کا بڑا حلقہ پیدا کیا جس کے بعد انہیں بالی وڈ میں شاہ رخ خان کی ہیروئن بننے کا موقع ملا فلم ’رئیس‘ میں۔

پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کے باعث انڈین موشن پکچر ایسوسی ایشن نے پاکستانی آرٹسٹوں پر پابندی لگائی تو پاکستان نے فلم ’رئیس‘ کی ریلیز روک دی۔

ماہرہ نے کہا کہ ’’پروفیشنل اعتبار سے تو مجھے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، تکلیف ضرور ہوئی، کیونکہ پاکستانی شائقین اپنے ملک کی آرٹسٹ کو دیکھنا چاہتے تھے۔ مجھے یقین ہے جب بھی ’رئیس‘ پاکستان میں ریلیز کی جائے گی مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنائے گی۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG