رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کو حکومت کی بقا کے لیے فیصلہ کن ووٹ کا سامنا


ملائیشیا کے وزیر اعظم محی الدین یاسین اور وزیر خزانہ تنکو ظفر پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے ٓآ رہے ہیں۔ 6 نومبر 2020

ملائیشیا کے قانون ساز ممبران جمعرات کو ملک کے سب سے بڑے بجٹ پر ووٹ کے ذریعہ اپنی رائے کا اظہار کریں گے جو کہ وزیر اعظم محی الدین یاسین کی حکومت کے لیے بقا یا خاتمے کا لمحہ ثابت ہو سکتاہے اور اس کے نتیجے میں ملک نئے انتخابات کی طرف بھی جا سکتا ہے۔

یاسین کو ملک کے آئینی بادشاہ نے فروری میں اس وقت وزیر اعظم مقرر کیا تھا جب سابقہ لیڈر مہاتیر محمد کی حکومت اچانک رونما ہونے والی اتحادی تبدیلیوں کے باعث ختم ہو گئی تھی۔

تب سے یاسین کی مخلوط حکومت کم ترین فرق سے 220 ممبران کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 113 ووٹوں کے ساتھ بمشکل چلتی آ رہی ہے۔ ان کی حکومت نے جولائی میں 109 کے مقابلے میں 111 ووٹ کی معمولی سے اکثریت کے ذریعے ایوان کے سپیکر کو تبدیل کیا تھا۔

اور اب یہ اتحاد کمزور دکھائی دیتا ہے۔ سب سے بڑی اتحادی جماعت یونائیٹڈ مالیز نیشنل آرگنائزیشن کو شکایت ہے کہ اسے وزیراعظم کی چھوٹی پارٹی بر ساٹو کے تحت کام کرنا پڑتا ہے۔ اور بڑی اتحادی پارٹی کے نمایاں رہنماؤں نے 2021 کے بجٹ کی حمایت کرنے سے گریز کیا ہے۔

حزب اختلاف نے بھی وزیر اعظم یاسین کی حکومت پر دباؤ قائم رکھا ہوا ہے کہ انتخابات میں کم ووٹ لینے اور عوامی حمایت نہ ہونے کے باوجود وہ حکومت سے چپکی ہوئی ہے۔

ایک تھنک ٹینک باور گروپ ایشیا کے ڈائریکٹر ادیب ذالکاپلی کہتے ہیں کہ بجٹ کا ووٹ حکومت کے قانونی طور پر جائز ہونے کا امتحان ہے اور اس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ حکومت کو پارلیمان میں اکثریت حاصل ہے یا نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ برطانوی پارلیمانی نظام کے تحت چلنے والی ملائیشیا کی پارلیمنٹ میں بجٹ کے ووٹ کو اعتماد کا ووٹ سمجھا جاتا ہے۔

ملائیشیا کے بجٹ اجلاس برائے 2021 کا ایک منظر
ملائیشیا کے بجٹ اجلاس برائے 2021 کا ایک منظر

ملائیشیا کے آئین کے مطابق حکومت یا وزیر اعظم کا بجٹ کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی ناکامی کی صورت میں ان کا مستعفی ہونا لازم نہیں۔

لیکن سنگاپو انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز سے وابستہ ماہر او ای سن کہتے ہیں کہ ووٹ میں ناکامی کی صورت میں برطانوی پارلیمانی روایات کے مطابق وزیراعظم کو یا تو مستعفی ہونا پڑتا ہے یا وہ بادشاہ کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

اگر پارلیمنٹ کو ختم کیا جاتا ہے تو نئے الیکشن کروانا ہوتے ہیں اور اگر وزیر اعظم استعفی دیتا ہے تو بادشاہ ایسے ممبر کو وزیر اعظم مقرر کرتا ہے جس کے بار ے میں یہ خیال ہو کہ وہ ایوان میں اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔

ملائیشیا کی تاریخ میں ایسی پیش رفت ایک انوکھا واقعہ ہو گا کیونکہ ملک میں کبھی بھی کوئی حکومت اتنی کمزور نہیں رہی اور نہ ہی کوئی حکومت بجٹ کو ووٹ کے ذریعے پاس کرانے میں ناکام بھی نہیں ہوئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG