رسائی کے لنکس

ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینیجر پر روسی مداخلت سے متعلق فردِ جرم عائد


کمرہٴ عدالت (خاکہ)

مینافرٹ کو، جو پچھلے سال جون سے اگست کے دوران ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم کے منیجر تھے، جولائی کے آخر میں بتا دیا گیا تھا  کہ انہیں مقدمے میں نامزد کیا جا سکتا ہے۔

پال مینافرٹ نے، جو سن 2016 میں کچھ عرصے کے لیے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سربراہ رہ چکے ہیں، خود کو صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت سے متعلق فوجداری مقدمے کی تحقیقات کے لیے پیر کے روز حکام کے حوالے کر دیا۔

جمعے کے روز ایک گرینڈ فیڈرل جیوری نے مقدمے میں عائد کیے جانے والے الزامات کی منظوری دی تھی۔ اس مقدمے کی پیروی خصوصی کونسلر رابرٹ ملر کر رہے ہیں۔

ملر نے مئی میں مقدمے کا کنڑول اپنے ہاتھ میں لیا تھا جس کے بعد تحقیقات تیزی سے آگے بڑھیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ مینافرٹ کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

رابرٹ ملر خصوصی کمیٹی کو روسی مداخلت کے مقدمے کی بریفنگ کے بعد باہر آ رہے ہیں۔ اگست 2017
رابرٹ ملر خصوصی کمیٹی کو روسی مداخلت کے مقدمے کی بریفنگ کے بعد باہر آ رہے ہیں۔ اگست 2017

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی انتخابی مہم کے روس کے ساتھ تعلق کا الزام جھوٹ اور بے بنیاد ہے جسے ڈیموکریٹ اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ملر کو جو ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر بھی ہیں، واشنگٹن کے حلقوں میں ایک غیر سیاسی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مینافرٹ کو، جو پچھلے سال جون سے اگست کے دوران ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم کے منیجر تھے، جولائی کے آخر میں بتا دیا گیا تھا کہ انہیں مقدمے میں نامزد کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روسی مداخلت کے ممکنہ تعلق پر ملر کی تحقیقات کے علاوہ کانگریس کی جانب سے بھی الگ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

انٹیلی جنیس کے امریکی حلقے 2017 کے أوائل میں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے امریکی جمہوریت کی اہمیت کو متاثر کرنے اور ٹرمپ کی جیت میں مدد دینے کے لیے ذاتی طور پر ایک خصوصی مہم کی ہدایت کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے متعدد ٹویٹس میں یہ اصرار کیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ڈیموکریٹس اور ان کی صدارتی حریف ہلری کلنٹن قصور وار ہیں۔​

اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس بری سیاست کے لیے یہ خطرناک چیز استعمال کر رہے ہیں اور یہ ہمارے ملک کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے ایک رکن ٹائی کاب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے تبصروں کا ملر کی تحقیقات کی پیش رفت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ ملر، قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن سے بھی تحقیقات کر رہے ہیں، جنہیں صدر ٹرمپ نے اپنا عہدے سنبھالنے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ الزام لگا کر اپنے عہدے سے برطرف کر دیا تھا کہ انہوں نے نائب صدر مائک پنس اور دوسرے عہدے داروں سے واشنگٹن میں روسی سفیر سے رابطوں کے حوالے سے غلط بیانی کی تھی۔

اس کے علاوہ ملر اس بارے میں بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا صدر ٹرمپ نے مئی میں اس وقت کے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کرتے وقت انصاف کے تقاضے پورے کیے تھے جو ملر کے چارج سنبھالنے سے پہلے روس سے متعلق مقدمے کی تحقیقات کر رہے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG