رسائی کے لنکس

logo-print

مردان خود کش حملہ: ہلاکتوں میں اضافہ، درجنوں افراد گرفتار


مردان میں پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ دریں اثناء امریکہ نے مردان میں خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں منگل کو ’نادرا‘ کے دفتر پر ہونے والے خودکش بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی ہے جب کہ خودکش حملے میں زخمی ہونے والے 40 سے زائد افراد میں سے اب بھی بعض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

اُدھر مردان میں پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ اس کے علاوہ خودکش حملہ آور کے جسم کے اعضاء ’ڈی این اے‘ ٹیسٹ کے لیے انسداد دہشت گردی کے محکمے کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق کوائف کا اندارج کرنے والے قومی ادارے ’نادرا‘ کے جس دفتر کو نشانہ بنایا گیا وہاں سکیورٹی کے تسلی بخش انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے ایک دھڑے جماعت الحرار نے مردان میں ہوئے خودکش بم حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

لیکن کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں اس خودکش حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

دریں اثناء امریکہ نے مردان میں خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ انسانی زندگیوں کے خلاف ایسے حملے نا قابل قبول ہیں۔

اس سے قبل اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے بھی ایک بیان میں ’نادرا‘ کے دفتر پر ہونے والے وحشت ناک حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں پر یہ حملہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دہشت گردوں کو انسانی زندگیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔

دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں تیزی کے بعد ملک میں شدت پسندوں کے حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن مردان میں ہونے والا حملہ رواں سال کے دوران دہشت گردوں کی بڑی کارروائیوں میں سے ایک تھا۔

XS
SM
MD
LG