رسائی کے لنکس

مشال قتل مقدمہ ہری پور جیل منتقل کرنے کا حکم

  • شمیم شاہد

فائل

پشاور ہائی کورٹ کے ایک دو رکنی بینچ نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس کی سماعت ہری پور جیل میں کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے مطابق سماعت ضلع ایبٹ آباد کے انسدادِ دہشت گردی کے جج کی نگرانی میں ہوگی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحیٰ آفریدی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے صوبائی حکومت کی جانب سے ہری پور جیل میں وکلا اور مشال خان کے اہلِ خانہ کو سماعت کے دوران سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعدجمعرات کو یہ فیصلہ سنایا۔

عدالت میں مشال خان کے والد اقبال خان کی اپیل کی پیروی لطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے کی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ارشد خان کو صوبائی حکومت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

بعد ازاں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے صوبائی محکمۂ داخلہ کی جانب سے تحریری یقین دہانی عدالت کے حوالے کی جس میں صوبائی حکومت نے مشال خان قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران ہری پور جیل میں فریقین اور وکلا کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

تیرہ اپریل 2017ء کو ولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبِ علم مشال خان کو ساتھی طلبہ اور یونیورسٹی ملازمین نے توہینِ رسالت کے الزام میں گولیاں مار کر اور تشدد کر کے قتل کردیا تھا۔

ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مشال خان کے قتل کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ مشال خان قتل میں ملوث 57 میں سے 54 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG