رسائی کے لنکس

logo-print

سانحہ 12 مئی: میئر کراچی اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد


بارہ مئی 2007ء کو کراچی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات میں 50 سے زائد افراد لقمہء اجل بن گئے تھے جن کے ورثا تاحال انصاف کے منتظر ہیں (فائل فوٹو)

میئر کراچی وسیم اختر اور دیگر سات ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے کے گواہوں کو طلب کر لیا۔

کراچی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سانحہ 12 مئی 2007ء کو ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں میئر کراچی وسیم اختر پر فردِ جرم عائد کردی ہے۔

سانحہ 12 مئی 2007ء کو کراچی میں جلاؤ گھیراؤ، اقدامِ قتل اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا راستہ روکنے سے متعلق مقدمے کی سماعت منگل کو ہوئی جس میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران مقدمے میں نامزد ملزمان پر واقعے کے 11 سال بعد بالآخر فردِ جرم عائد کردی گئی۔

میئر کراچی وسیم اختر اور دیگر سات ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے کے گواہوں کو طلب کر لیا۔

بارہ مئی 2007ء کو ہنگامہ آرائی سے متعلق اسی نوعیت کے تین دیگر مقدمات میں وکلا کی عدم حاضری کے باعث ملزمان پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 جون تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر سرکاری گواہوں کو شہادتیں ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کرلیا ہے۔ کیس میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت 19 ملزمان پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔

اس مقدمے میں نامزد 16 دیگر ملزمان کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ میئر کراچی سمیت دیگر ملزمان پر سانحہ 12 مئی کے سات مختلف مقدمات درج ہیں۔ وسیم اختر سانحے کے وقت اس وقت کے وزیرِ اعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم کے مشیر برائے امورِ داخلہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

سانحہ 12 مئی سے متعلق مقدمات تقریباً دس سال تک سرد خانے میں پڑے رہے۔ گزشتہ سال ان مقدمات میں نامزد ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد کمزور شواہد کی بنیاد پر 19 ملزمان کو ضمانت پر رہائی مل گئی تھی۔ لیکن ان پر مقدمہ اب بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

فردِ جرم عائد ہونے کے بعد میئر کراچی وسیم اختر نے عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 12 مئی 2007ء کے واقعات کی از سرِ نو تحقیقات کی جائے۔ لوگوں کے سامنے اصل حقائق اور چہرے آنے چاہئیں۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ میئر نامزد ہونے کے بعد ان پر 40 مقدمات بنائے گئے اور ایک دن میں 20، 20 ایف آئی آرز کاٹی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بارہ مئی 2007ء کو اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کو کراچی کا دورہ اور وکلا سے سندھ ہائی کورٹ میں خطاب کرنا تھا لیکن انہیں روکنے کے لیے شہر میں کی جانے والی ہنگامہ آرائی میں 50 سے زائد افراد کی جانیں چلی گئی تھیں۔

پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعتِ اسلامی اور دیگر جماعتوں نے چیف جسٹس کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ سے ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا جب کہ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے اس ریلی کی مخالفت میں ایم اے جناح روڈ پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک میں شریک تمام جماعتیں اس قتل و غارت کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کرتی ہیں لیکن ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ اس دن ہنگامہ آرائی میں خود اس کے بھی کئی کارکن مارے گئے تھے۔

اس سانحے کے کسی ایک ذمہ دار کو بھی آج تک سزا نہیں ہوسکی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں اس وقت کے چیف جسٹس افضل سومرو کی سربراہی میں فل بینچ نے سانحہ 12 مئی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر کیس ہی بند کردیا تھا۔

اس کیس کا فیصلہ سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے 3 نومبر 2007ء کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے ججز نے جاری کیا تھا۔

عدالت نے اس وقت اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اس معاملے پر آئین کی روشنی میں کوئی مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ کیس دوبارہ کھولنے کی درخواست بھی عدالت میں آج تک زیرِ سماعت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG