رسائی کے لنکس

logo-print

سزا یافتہ، مفرور یا زیر سماعت افراد کے میڈیا کوریج پر مجوزہ پابندی؟


قومی اسمبلی۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ایک ایسا قانون منظور کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کے تحت کسی بھی مقدمے میں سزا یافتہ، مفرور یا زیر سماعت افراد کے میڈیا کوریج پر پابندی عائد ہوگی۔ اپوزیشن اور صحافتی رہنماؤں نے اس مجوزہ قانون کو حزب مخالف کی آواز کو دبانے اور ریاستی سنسرشپ کے مترادف قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے بدھ کو ہونے والے کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ وزیر قانون کو سزایافتہ اور مفرور افراد کو میڈیا کی زینت بننے سے روکنے کے لیے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو پاکستان کو مطلوب ہیں میڈیا پر آکر انٹرویوز دیتے ہیں اور بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے قوانین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے بقول، ’’کرپشن کے کیسز میں مختلف عدالتوں سے سزا پانے والے افراد جب فتح کا نشان بناتے ہیں تو اس سے معاشرہ تنزلی کا شکار ہوگا‘‘۔

حکومت کی جانب سے گذشتہ کچھ عرصے سے ایسے اشارے ملے تھے کہ وہ سزا یافتہ یا ایسی شخصیات، جن کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، کی میڈیا رونمائی اور بیانات پر پابندی کا سوچ رہی ہے۔

اس سے قبل جولائی میں حکومت نے پیمرا کو ہدایت کی تھی کہ سزا یافتہ اور زیرِ حراست ملزمان کے بیانیے کے فروغ کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ حکومت کے اس اقدام کی آزادی اظہار رائے اور صحافتی تنظیموں نے مذمت کی تھی۔

پارلیمان اظہار رائے کی قدغن کا اختیار نہیں رکھتی

صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ یہ قانون میڈیا پر قدغن کا ایک طریقہ کار ہے اور اس کا مقصد مقدمات کا سامنا کرنے والے حکومت مخالف سیاسی رہنماؤں کی زبان بندی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قسم کے قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ کسی خاص مقدمے کی میڈیا کوریج نہیں ہونی چاہئے تو اسے عدالت میں اپنا موقف رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اگر چاہے گی تو کسی مقدمے کے حوالے سے بھی حکم دے سکتی ہے کہ اس پر میڈیا میں بحث نہ کی جائے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اویس خان لغاری کہتے ہیں کہ مقدمات کا سامنا کرنے والوں کو محض الزمات کی بنیاد پر اظہار رائے کی قدغن نہیں لگائی جا سکتی اور نہ ہی سزا یافتہ افراد کو میڈیا سے دور رکھا جا سکتا ہے، کیونکہ آزادی اظہار کا قانون کسی کو بھی اپنے خیالات کے اظہار سے نہیں روکتا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقننہ یا پارلیمان کسی کے اظہار رائے کی قدغن کا اختیار نہیں رکھتے۔ البتہ، کسی شخص کے خیالات کے معاشرے پر منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے عدالت یہ اختیار رکھتی ہے کہ اس کے اظہار کی تشہر سے پابندی لگا سکے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں میڈیا سینسرشپ کو اظہار رائے پر قدغن کی بدترین صورت قرار دیتی ہیں اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد نے معاملے میں عدالت سے رُجوع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اپوزیشن اتحاد کا موقف ہے کہ آزادی اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کی ضمانت آئین پاکستان میں دی گئی ہے، جب کہ موجودہ حکومت میڈیا سینسرشپ کے ذریعے شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے، جس کی کسی جمہوری ملک میں گنجائش نہیں ہے۔

اظہار رائے پر قدغنوں کا نیا دوراہا

اویس لغاری کہتے ہیں کہ حکومت تنقید سننے کا حوصلہ نہیں رکھتی؛ ’’جب کہ اضطراب کا یہ عالم ہے کہ سنسرشپ کے بعد حزب اختلاف کے رہنماؤں کی زباں بندی کی جا رہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدم اظہار رائے پر قدغنوں اور سنسرشپ کو نئے دورائے تک لے جانے کے مترادف ہوگا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما کا کے مطابق، اس قسم کے کالے قانون آئین پاکستان اور آظہار رائے کی بنیادی اصولوں کے منافی ہیں جس پر قلیل اکثریت رکھنے والی حکومت کی اتحادی جماعتیں پارلیمینٹ میں ساتھ نہیں دیں گے۔

مظہر عباس کے مطابق ’’مجوزہ قانون بنیادی طور پر بدنیتی پر مبنی ہے اور صحافیوں کی جانب سے اس پر ردعمل آئے گا، جس پر حکومت کو سبکی اٹھانا پڑے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو قانون سازی کرتے وقت یہ خیال ضرور رکھنا چاہئے کہ جب وہ اپوزیشن میں ہوں گے تو اسی قسم کے مقدمات ان پر بنیں گے، تب یہی قانون ان کے آڑے آسکتا ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں اپوزیشن رہنماؤں کے ٹیلی ویژن انٹرویوز اور اخباری کانفرنس بغیر کوئی وجہ بتائے آن ایئر ہونے سے رکوائے جاتے رہے ہیں، جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری اور مریم نواز کے ٹی وی انٹرویوز قابل ذکر ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG