رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی زیر سرپرستی بحرین میں معاشی امن اجلاس کا انعقاد


جیرڈ کشنر

وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر جیرڈ کشنر نے منگل کے روز کہا ہے کہ فلسطینیوں کی خوشحالی کے معاشی منصوبے کی منظوری خود فلسطینیوں کو دینی ہوگی، جو امن کی ایک ضروری شرط ہے۔

منگل کے روز بحرین میں منعقدہ ’معاشی ورکشاپ‘ سے خطاب کرتے ہوئے، کشنر نے یہ بھی کہا کہ مناسب سیاسی حل کے بغیر فلسطینی خوشحالی حاصل نہیں کر سکتے۔ معاشی ورکشاپ کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل کو تقویت دینا ہے۔

کشنر نے کہا کہ ’’معاشی لائحہ عمل پر اتفاق ضروری شرط ہے، تاکہ اس سے قبل ناقابل تصفیہ خیال کیے جانے والے سیاسی معاملات حل کیے جاسکیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’واضح طور پر فلسطینی عوام کی معاشی ترقی اور خوش حالی تب تک ممکن نہیں ہوگی جب تک تنازع کا کوئی پائیدار اور منصفانہ سیاسی حل نہ تلاش کیا جائے۔ ایسا حل جس کے ذریعے اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت دی جا سکے اور فلسطینی عوام کے وقار کا خیال رکھا جائے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد، کشنر نے کہا پے کہ دو روزہ اجلاس کے دوران سیاسی حل پر بات نہیں ہوگی۔ تاہم، انھوں نے تسلیم کیا کہ بعد میں ایسا کرنے کی ضرورت ہوگی۔

منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو امداد میں 27 ارب ڈالر کی پیش کش کی گئی ہے، جس کا زیادہ تر حصہ سعودی عرب کی قیادت میں امیر عرب ممالک دیں گے۔ 23 ارب ڈالر اسرائیل کی سرحد کے ساتھ والے نسبتاً غریب عرب ملک برداشت کریں گے، جیسا کہ لبنان، اردن اور مصر۔

امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ’امن سے خوش حالی‘ کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جو کشنر کی کوششوں سے ہو رہی ہے، جب کہ کلیدی ملک اس میں موجود نہیں ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی اس ورکشاپ کا بائیکاٹ کر رہی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ منصوبہ دھول جھونکنے کی ایک کوشش ہے،جس میں دم خم نہیں ہے۔

اسرائیل بھی اجلاس میں شرکت نہیں کر رہا ہے، چونکہ عرب ممالک فلسطینی مسئلے کے حل کی کوششوں سے پہلے ایسے عمل کے مخالف ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG