رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی وزیرِ اعظم نے رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا؛ پاکستان کی تنقید


بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بدھ کو مندر کا سنگِ بنیاد رکھنے سے قبل خصوصی پوجا بھی کی۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ملک کے شمالی شہر ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی زمین پر متنازع رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بدھ کو مندر کا سنگِ بنیاد رکھنے سے قبل خصوصی پوجا بھی کی۔

بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ آج کے اس خاص موقع پر دنیا بھر میں رام کے ماننے والے مبارک باد کے مستحق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایودھیا میں ایک سنہری باب لکھنے جا رہا ہے اور کئی صدیوں کا انتظار ختم ہو گیا ہے۔

مودی کا خطاب بھارت کے بیشتر ٹی وی چینلز نے براہِ راست نشر کیا۔ اپنے خطاب میں بھارت کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ مندر ہماری روایات کی نئی علامت ہو گا اور اس کی تعمیر سے ہماری عقیدت اور قومی جذبات کی بھی عکاسی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مندر اس بات کی بھی علامت ہو گا کہ کروڑوں لوگوں کی مشترکہ کوششیں کتنی طاقت ور ہوتی ہیں۔

مندر کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر ایودھیا شہر کی کئی اہم سڑکوں کو رکاوٹیں اور خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تھا جب کہ شہر میں بیشتر دکانیں اور کاروبار بھی بند رہا۔

کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ایودھیا شہر میں پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ نیم فوجی دستوں کے تین ہزار اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ ایک سال قبل پانچ اگست کو ہی بھارت نے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے آئینی ترمیم کر کے اس کی نیم خود مختار خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ ناقدین اس تقریب کی تاریخ کو حکومت کے اس اقدام سے جوڑ رہے ہیں جب کہ مندر کی تعمیر کے لیے قائم ٹرسٹ نے اعلان کیا تھا کہ سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب پانچ اگست اس لیے رکھی گئی کیوں کہ علمِ نجوم کے مطابق ہندوؤں کے لیے یہ مبارک تاریخ ہے۔

یاد رہے کہ یہ مندر اس مقام پر تعمیر کیا جائے گا جہاں 16 ویں صدی میں تعمیر ہونے والی بابری مسجد قائم تھی۔ اس مسجد کو 1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے یہ کہہ کر مسمار کر دیا تھا کہ یہ مسجد ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش پر تعمیر کی گئی تھی۔

مسجد کی مسماری کے بعد بھارت بھر میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے یہ معاملہ بھارت کی سیاست اور معاشرت میں وجۂ نزاع بنا رہا ہے۔

اس معاملے پر قانونی جنگ بھی کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ بالآخر بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس اپنے ایک حکم میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کا حکم دیا تھا اور حکام کو مسجد کی تعمیر کے لیے مسلمانوں کو پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کی ہدایت کی تھی۔

نوے کی دہائی میں رام مندر کی تحریک کا حصہ رہنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 92 سالہ رہنما لال کرشنا ایڈوانی نے کہا ہے کہ آج اُن کے لیے جذباتی اور تاریخی دن ہے جس کا اُنہیں کئی دہائیوں سے انتظار تھا۔

بدھ کو ہونے والی رام مندر کے سنگِ بنیاد کی تقریب کو کرونا وائرس کی وجہ سے محدود رکھا گیا۔ دوپہر میں شروع ہونے والی اس تقریب میں محدود تعداد میں مذہبی رہنماؤں، پجاریوں اور معززین کو مدعو کیا گیا تھا۔

ایودھیا کی مختلف سڑکوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے۔
ایودھیا کی مختلف سڑکوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے۔

بھارت میں سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مختلف ٹرینڈز بنا کر صارفین آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک ٹرینڈ بابری زندہ ہے #BabriZindaHai کے تحت کئی لوگوں نے حکومت کے اقدامات پر تنقید کی جب کہ جے شری رام #JaiShreeRam اور رام مندر ایودھیا #RamMandirAyodhya کے ٹرینڈ کے تحت صارفین نے حکومت کے اقدام کو سراہا۔

بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں تعمیر کیے جانے والے اس مندر کا رقبہ تقریباً 84 ہزار اسکوائر فٹ ہوگا۔ مندر کی چوڑائی 235 فٹ، لمبائی 300 فٹ اور اونچائی 161 فٹ ہو گی۔ مندر کے ساتھ ایک کمپلیکس بھی تعمیر ہو گا جس میں لیکچر ہال، یاتریوں کے ٹھیرنے کی جگہ اور میوزیم ہو گا۔

مندر کی تعمیر ساڑھے تین برس میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

مسلم تنظیموں کا مؤقف ہے کہ رام مندر کی تعمیر کے بعد خدشہ ہے کہ اترپردیش میں مزید دو مساجد کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ہندو تنظیموں کا مؤقف ہے کہ وارانسی شہر میں موجود گیانوپی مسجد مندر کی جگہ تعمیر کی گئی تھی جو بھگوان شیوا کے لیے وقف تھی جب کہ متھورا شہر میں جس مقام پر شاہی عید گاہ واقع ہے اس سے متصل مندر بھگوان کرشنا کی جائے پیدائش ہے۔

رام مندر کی تعمیر کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست گزار اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کو یہ یقین دہانی کرانا ہو گی کہ ہندو تنظیمیں وارانسی اور متھورا شہر میں موجود مساجد پر مندر کی تعمیر کا مطالبہ نہیں کریں گی۔

پاکستان کی مذمت

دوسری جانب پاکستان نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی مذمت کی ہے۔

دفترِ خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پانچ صدیوں سے قائم بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی شدید مذمت کرتا ہے۔

بیان میں بھارت کی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں خصوصاََ مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق تاریخی مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر بھارت کی نام نہاد جمہوریت کے لیے آنے والے وقت میں داغ رہے گا۔

بیان کے مطابق آر ایس ایس اور بی جے پی مشترکہ طور پر مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے اور ایک منظم انداز میں ان کو تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھارت کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ اور سیکیورٹی کو ممکن بنائے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG