رسائی کے لنکس

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت آخری مراحل میں داخل


فائل فوٹو

استغاثہ کی طرف سے جمع کرائی گئی 28 گواہوں کی فہرست میں سے 24 کا بیان قلم بند ہوچکا ہے جبکہ اب صرف چار گواہ رہ گئے ہیں۔

سابق وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ عدالت نے مزید گواہوں کے بیان قلم بند کرلیے ہیں جب کہ ان لینڈ ریونیو کمشنر اشتیاق احمد نے احتساب عدالت کے روبرو انکشاف کیا ہے کہ صرف 16 برس کے عرصے میں سابق وزیرِ خزانہ کی دولت میں 91 گنا اضافہ ہوا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے پیر کو اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب)مقدمے کی سماعت کی۔

استغاثہ کی طرف سے جمع کرائی گئی 28 گواہوں کی فہرست میں سے 24 کا بیان قلم بند ہوچکا ہے جبکہ اب صرف چار گواہ رہ گئے ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر اس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد غیر قانونی اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ عدالت مسلسل غیر حاضری پر اسحاق ڈار کو مفرور اور اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

پیر کو دورانِ سماعت اسحاق ڈار کے خلاف استغاثہ کے مزید چار گواہان کے بیان قلم بند کیے گئے جن میں نیب کے افسر شکیل انجم ناگرا، اقبال حسن، عمر دراز گوندل اور کمشنر ان لینڈ ریونیو اشتیاق احمد شامل ہیں۔ استغاثہ کے گواہ انعام الرحمان بیماری کے باعث آج بیان قلم بند نہ کرا سکے۔

ان لینڈ ریونیو کمشنر اشتیاق احمد نے احتساب عدالت کے روبرو انکشاف کیا کہ جون 1993ء میں اسحاق ڈار کی کل دولت 91 لاکھ 12 ہزار سے زائد تھی جب کہ جون 2009ء میں سابق وزیرِخزانہ نے اپنی دولت 83 کروڑ 16 لاکھ 78 ہزار سے زائد ظاہر کی جس کا مطلب ہے کہ صرف 16 سال میں اسحاق ڈار کی دولت میں 91 گنا اضافہ ہوا۔

اشتیاق احمد کی رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن کے ریکارڈ کے تحت جون 1993ء میں اسحاق ڈار کی آمدن 7 لاکھ 29 ہزار سے زائد تھی جب کہ 2009ء میں یہی آمدن بڑھ کر 4 کروڑ 62 ہزار سے زائد تک جا پہنچی۔ اشتیاق احمد نے 1979ء سے 1993ء تک اور 2009ء سے 2016ء تک کا ٹیکس ریکارڈ بھی پیش کیا۔

استغاثہ کے ایک اور گواہ اقبال حسن نے بتایا کہ بینکنگ ایکسپرٹ ظفر اقبال کا بیان میری موجودگی میں قلم بند کیا گیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ظفر اقبال نے اسحاق ڈار کے اکاؤنٹس کی بینک کریڈٹ ان فلوز رپورٹ بھی تفتیشی افسر کو پیش کی تھی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب عبید سائمن بھی وہیں موجود تھے۔

استغاثہ کے گواہ عمر دراز گوندل نے اپنا بیان قلم بند کراتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کی ہدایت پر طلبی کے سمن لے کر اسحاق ڈار کی گلبرگ والی رہائش گاہ پر پہنچے جہاں موجود پولیس کانسٹیبل نے بتایا کہ اسحاق ڈار اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں اور وہ کبھی کبھار ہی یہاں آتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کانسٹیبل نے اسحاق ڈار کے پرائویٹ سیکریٹری منصور رضوی سے فون پر بات کرائی جس میں ان کے بقول منصور نے بھی یہی بات دہرائی کہ اسحاق ڈار اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ لہٰذا سمن واپس تفتیشی افسر کو حوالے کر دیے۔

احتساب عدالت نے نیب کی مزید دو گواہان کو طلب کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کردی ہے۔ نیب نے عدالت کو اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ایس ای ای سی پی کی سدرہ منصور اور سلمان سعید کو عدالت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں نے اسحاق ڈار کی کمپنیوں سے متعلق ریکارڈ جمع کرایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG