رسائی کے لنکس

logo-print

داعش نے موصل میں آخری جنگ کی تیاری شروع کردی


اس تصویر میں عراق کے شہر موصل کی تاریخی نوری مسجد کا ایک مینار دکھائی دے رہا ہے۔ یکم جون 2017

عراقی فورسز نے، جنہیں امریکی اتحادی کی سرپرستی حاصل ہے داعش کو تمام علاقوں سے نکال دیا ہے اور اب ان کے قبضے میں موصل کا 12 کلومیٹر کا علاقہ رہ گیا ہے۔ جنگجو اب یہاں پرانے شہر میں موجود ہیں اور آخری جنگ کی تیاری کررہے ہیں۔

داعش نے عراقی فوج کے خلاف آخری جنگ کے لیے موصل کے مغربی حصے میں واقع نوری مسجد کے آس پاس واقع گلیوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔

علاقے کے مکینوں نے خبررساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس اور روئیٹرز کو بتایا کہ انہوں نے داعش کے درجنوں جہادیوں کو نوری مسجد کے نزدیک واقع گلیوں کو بند کرتے اور وہاں رہنے والوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے دیکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ آئندہ ہونے والی لڑائی کی تیاریاں کررہے ہیں۔

موصل کے قدیم شہر میں قائم النوری مسجد کی اسلامک اسٹیٹ یعنی داعش کے جنگجوؤں کے لیے ایک علامتی حیثیت ہے، کیونکہ یہ وہی مقام ہے جہاں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی نے سن 2014 میں عوام کے سامنے آکر اپنے خلیفہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت داعش کے جنگجو عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ جما چکے تھے جس میں اب مسلسل کمی ہو رہی ہے۔

اس مسجد کا 840 سال پرانا مینار جانب قدرے جھکا ہوا ہے۔ موصل پر قبضے کے بعد داعش کے جنگجوؤں نے اسے باردو د سے اڑانے کا ارادہ کیا تھے جسے روکنے کے لیے مقامی آبادی نے اس کے گرد انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا لی تھی۔ اب اس مینار کی چوٹی پر داعش کا سیاہ جھنڈا لہرا رہا ہے۔

مشرق وسطی کے کئی ملکوں کے لیے کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے ہاشم الہاشمی نے روئیٹرز کو بتایا کہ داعش کے جنگجو جانتے ہیں کہ مسجد سب سے اہم ہدف ہے اور وہ یہاں ایک بڑی جنگ کی تیاری کررہے ہیں۔

عراقی فورسز نے، جنہیں امریکی اتحادی کی سرپرستی حاصل ہے داعش کو تمام علاقوں سے نکال دیا ہے اور اب ان کے قبضے میں موصل کا 12 کلومیٹر کا علاقہ رہ گیا ہے۔ جنگجو اب یہاں پرانے شہر میں موجود ہیں اور آخری جنگ کی تیاری کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ موصل میں اس وقت بھی ایک لاکھ افراد اسلامک اسٹیٹ کے نرغے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG