رسائی کے لنکس

logo-print

پارٹی کارکن کی ہلاکت، ایم کیو ایم کا 2 روزہ سوگ کا اعلان


بدھ کو پارٹی مرکز’نائن زیرو‘ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے، ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے الزام لگایا کہ ’متحدہ کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے‘؛ جس کے خلاف، بدھ اور جمعرات کو 2 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے

متحدہ قومی موومنٹ نے پارٹی کے ایک کارکن وسیم دہلوی کی مبینہ طور پر پولیس حراست کے دوران ہلاکت کے خلاف 2 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی، ایم کیو ایم نے مبینہ ماورائے عدالت قتل کی چھان بین کے لیے جوڈیشنل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کو پارٹی مرکز ’نائن زیرو‘ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے، ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے الزام لگایا کہ متحدہ کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے، جبکہ کئی اہم رہنما اور درجنوں کارکن تاحال لاپتہ ہیں۔ اس کے خلاف، پارٹی نے بدھ اور جمعرات کو 2 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اس موقع پر، ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما کنور نوید جمیل بھی موجود تھے۔ خالد مقبول صدیقی نے الزام لگایا کہ پولیس نے وسیم دہلوی کو ان کے گھر سے گرفتار کیا اور تشدد کے بعد قتل کیا۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کرلی، جبکہ ڈی آئی جی ایسٹ کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد ایس ایچ او مقصود رضا کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقصود رضا کی معطلی کے ساتھ ساتھ تین پولیس اہلکاروں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ عزیز بھٹی پارک تھانے سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں نے ایم کیو ایم کے کارکن وسیم کو اس کے 2 بھائیوں سمیت 2 روز قبل بلدیہ ٹاوٴن سے گرفتار کیا تھا۔ منگل کو ملزم سے تفتیش کی غرض سے دوسرے تھانے منتقلی کے دوران مبینہ طور پر تشدد کی اطلاعات ملیں۔

وسیم کے اہل خانہ کی جانب سے بھی یہی الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وسیم کی ہلاکت پولیس تشدد کے سبب ہوئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، وسیم بلدیہ ٹاوٴن کا رہائشی تھا جسے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وسیم کے دو بھائی عدیل اور نعیم بھی پولیس کی حراست میں تھے۔ تاہم، انہیں بدھ کی شام رہا کر دیا گیا۔

وسیم کا پوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں مجسٹریٹ کی نگرانی میں کیا گیا۔ اس دوران ملزم کے اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں نے اسپتال کے باہر شدید احتجاج کیا۔

XS
SM
MD
LG