رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کے ’الیاس گوٹھ ‘میں اتوار کی دوپہر ایک کار سے ایم کیو ایم لندن کے ڈپٹی کنوینر حسن ظفر عارف کی لاش برآمد ہوئی۔ مرحوم کی عمر 72سال تھی اور وہ دل کے عارضے میں بھی مبتلا تھے۔

علاقہ ایس ایچ او انسپکٹر نذیر چانڈیو کے مطابق لاش کی شناخت ان کی جیب سے ملنے والے شناختی کارڈ سے ہوئی ۔ ان کے جسم پر تشدد کا کوئی نشانہ نہیں اس لئے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی موت کی حتمی وجوہات سامنے آسکیں گی۔

شام کے اوقات میں جناح اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر شیراز خواجہ اور ڈاکٹر سونو مل کی جاری کردہ حسن ظفر عارف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی موت طبعی تھی ۔

واقعے کی مزید تفتیش کی غرض سے پولیس نے لاش کے نمونے کیمیکل ایگزامینر کو بھجوا دیئے جن کی رپورٹ آنے میں کچھ دن لگ سکتے ہیں لہذا موت کی وجوہات سامنے آنے میں کچھ وقت لگنا لازمی ہے۔

پولیس اور ڈاکٹرز کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق پروفیسر حسن ظفر عارف کی موت ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ہوئی۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ چونکہ حسن ظفر عارف دل کے مریض تھے اور ایسے مریض کو کسی کمرے میں بند کر دیا جائے ، اس پر تشدد کیا جائے یا ڈرایا دھمکایا جائے تو بھی اس کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

قوانین کے مطابق حبس بے جا میں موت بھی قتل کے زمرے میں آتی ہے۔

پولیس کے مطابق حسن ظفر عارف کی لاش کار کی پچھلی نشست سے برآمد ہوئی۔ وہ 2016 سے متحدہ قومی موومنٹ لندن کی پاکستان میں نمائندگی کر رہے تھے۔ اس دوران وہ حراست میں بھی رہ چکے ہیں جبکہ کچھ عرصہ انہوں نے جیل میں بھی گزارا۔

سال 2017 میں وہ ڈپٹی کنوینر ہونے کے باوجود سیاسی طور پر غیر متحرک تھے۔ ایم کیو ایم لندن سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے وہ گزشتہ روز سے لاپتہ تھے اور انہیں مبینہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG