رسائی کے لنکس

پوپ فرانسس کا دورہٴمیانمار اور بنگلہ دیش


اُن کے دورہٴ میانمار کا آغاز 26 نومبر سے ہوگا۔ یکم دسمبر کو ہمسایہ ملک، بنگلہ دیش روانگی سے کچھ ہی دیر قبل، پونٹف (بابائے اعظم) سینئر جنرل مِن آنگ ہلینگ سے ملاقات کریں گے

پوپ فرانسس میانمار کے فوجی سربراہ کے ساتھ ساتھ روہنگیا مسلمانوں سے ملاقات کریں گے، جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ملک کی مسلح افواج اُن کے خلاف مظالم روا رکھے ہوئے ہیں۔

اُن کے دورہٴ میانمار کا آغاز 26 نومبر سے ہوگا۔ ہمسایہ ملک، بنگلہ دیش روانگی سے کچھ ہی دیر قبل، پونٹف (بابائے اعظم) سینئر جنرل مِن آنگ ہلینگ سے ملاقات کریں گے۔

میانمار کے کارڈنل چارلس بُو نے پوپ کو اِس بات پر قائل کیا ہے کہ وہ اپنے شڈول میں جنرل کے ساتھ ملاقات کا اضافہ کریں۔

بُو نے پوپ کو اِس بات کا بھی مشورہ دیا ہے کہ اپنے دورے میں وہ روہنگیا کی اسطلاح استعمال نہ کریں، اس خوف کی بنا پر کہ اِس سے اکثریتی بودھ ملک میں اشتعال بڑھ سکتا ہے۔

میانمار کی فوج اور سرکاری اہل کار یہ اسطلاع استعمال کرنے سے احتراز کرتے ہیں، جس کے لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ رخائن کی شمالی ریاست کے مسلمانوں کو ایک نسلی اقلیت کا درجہ دینے کے مترادف ہے۔ اُن کا سرکاری مؤقف یہ ہے کہ وہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارک وطن ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپ اور اقوام متحدہ الزام لگاتے ہیں کہ میانمار کی فوج اقلیتی مسلمان آبادی کے خلاف مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق کہ 600000 سے زائد روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش بھاگ نکلے ہیں، جہاں وہ مہاجر کیمپوں میں رہتے ہیں جو صاف ستھری نہیں ہیں۔

اُن کا بنگلہ دیش کا دورہ یکم دسمبر سے شروع ہوگا، جہاں پوپ چند مہاجرین سے بھی ملیں گے۔

وٹیکن ترجمان، گریگ برک نے کہا ہے کہ ’’پوپ یہ دورہ ایسے وقت کر رہے ہیں جب دونوں ملک ایک اہم موڑ سے گزر رہے ہیں‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ اُنھیں توقع ہے کہ یہ ایک انتہائی دلچسپ دورہ ہوگا۔

پوپ فرینسس میانمار کے فی الواقع سولین سربراہ اور نابیل امن ایوارڈ یافتہ، آنگ سان سوچی سے علیحدگی میں ملاقات کریں گے۔

میانمار کے ہاتھوں روہنگیا کے ساتھ روا رکھے گئے رویے پر، حالیہ دِنوں بین الاقوامی برادری نے مذمت کی ہے، اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ یہ نسل کشی کے مترادف ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG