رسائی کے لنکس

میانمار میں احتجاج جاری، سیکیورٹی فورسز کا مظاہرین پر تشدد، عالمی برادری کی مذمت


میانمار کے دارالحکومت ناپیٹو میں آن ساں سوچی کی تصاویر کے ساتھ احتجاج مظاہرہ۔ 14 فروری 2021

میانمار میں فوج کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔ منتخب حکومت کو اقتدار دینے کا مطالبہ کرنے والوں پر پِیر کے روز سیکیورٹی فورسز نے بندوقیں تان لیں اور لاٹھیوں کے ساتھ ان پر حملہ کر دیا تا کہ انہیں منتشر کیا جا سکے۔

ایک ہزار سے زیادہ مظاہرین نے ملک کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں میانمار اکنامک بینک کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی کوریج کرنے والے ایک فوٹو گرافر کے مطابق، اس دوران پولیس اور فوجیوں سے بھرے ہوئے دس ٹرک وہاں پہنچے اور انہوں نے فوری طور پر مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں برسانی شروع کر دیں۔

اس کے بعد، فوجیوں اور پولیس نےمظاہرین پر لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ربڑ کی گولیاں لگنے سے چند افراد زخمی بھی ہوئے۔

دارالحکومت ناپیٹو میں مظاہرین نے ایک پولیس سٹیشن کے سامنے مظاہرہ کیا اور فوجی قبضے کے خلاف احتجاج کرنے والے ان طلبا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا، جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

دوسری جانب، ملٹری حکام نے برطرف لیڈر آنگ ساں سوچی کی نظر بندی میں بدھ تک توسیع کر دی ہے۔ سوچی کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر نظربند کیا گیا تھا۔ انہیں اپنے گھر کی تلاشی کے دوران برآمد کئے گئے چھ غیر رجسٹرڈ واکی ٹاکی ریڈیو غیر قانونی طور پر درآمد کرنے اور استعمال کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

بنیادی طور پر سوچی کو پیر کے روز تک نظر بند کیا گیا تھا۔ تاہم سوچی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی نظر بندی میں بدھ تک توسیع کر دی گئی ہے۔

سوچی کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اب ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے 17فروری کو ایک عدالت کے سامنے پیش ہونگی۔

تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ سوچی کی نظر بندی میں توسیع سے فوج اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

دوسری جانب حکام نے راتوں رات انٹرنیٹ تک لوگوں کی رسائی ختم کر دی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گتریس نے پابندیوں، سیاسی اور سول سوسائٹی کے لیڈروں کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انٹونیو گتریس کے ترجمان نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل کو میانمار کی صورتحال پر، جس میں طاقت کے استعمال میں اضافہ اور مرکزی شہروں میں مسلح گاڑیوں مبینہ موجودگی شامل ہے، گہری تشویش ہے۔

انہوں نے میانمار کی فوج اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کے پر امن اجتماع کا احترام کریں اور متشدد کارروائیوں سے گریز کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل تشدد اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

اُدھر میانمار میں تعینات امریکہ، کینیڈا ور یورپی یونین کے 12 ملکوں کے سفیروں نے مواصلات کی بندش کی مذمت کی ہے، اور یہ کہتے ہوئے میانمار کے عوام کیلئے حمایت کا اظہار کیا ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے۔

قبل ازیں اتوار کے روز میانمار کی سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔ ابھی تک ہلاکتوں کی تعداد کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی فوجی حکومت کی طرف سے کوئی تبصرہ کیا گیا ہے۔

مظاہروں کو روکنے کے لیے سڑکوں پر سیکیورٹی فورسز کا بکتر بند گاڑیوں میں گشت جاری ہے۔ 13 فروری 2021
مظاہروں کو روکنے کے لیے سڑکوں پر سیکیورٹی فورسز کا بکتر بند گاڑیوں میں گشت جاری ہے۔ 13 فروری 2021

شمالی ریاست کاچن میں واقع ایک پاور پلانٹ پر کئے جانے والے احتجاج پر نظر رکھنے کے لئے اتوار کو فوجی تعینات کئے گئے تھے۔ احتجاج کرنے والوں کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجیوں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کی لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ربڑ کی گولیاں استعمال کی گئیں یا پھر اسلحے کا استعمال ہوا۔

یہ مظاہرے ایک ایسے وقت پر ہوئے، جب فوج آنگ سان سوچی کی حکومت ختم کرنے کے بعد اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

سوچی کے ایک قریبی ساتھی ، کیو ٹنٹ سوی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کے ان چند ارکان میں شامل تھے جنھیں سیکیورٹی فورسز نے راتوں رات ان کے گھروں سے تحویل میں لیا۔

میانمار کے انتخابی کمیشن کی قیادت کو بھی مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ کمیشن نے نومبر کے انتخابات میں فوج کی طرف سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے دعووں کو مسترد کر دیا تھا، یہ انتخاب این ایل ڈی نے اکثریت سے جیتا ہے۔ فوج نے اپنے اقتدار کے خلاف مظاہروں کے دوران کاچن سمیت نسلی اقلیتوں کے خلاف بھی مبینہ طور پر کارروائی کی ہے۔

ینگون میں فوجی قبضے کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ۔ 13 فروری 2021
ینگون میں فوجی قبضے کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ۔ 13 فروری 2021

مظاہرین کے احتجاج کے علاوہ سرکاری اور سول ملازمین بھی ہڑتال پر ہیں، جس کے نتیجے میں پورے ملک میں ٹرین سروس میں خلل پڑ رہا ہے۔ فوج نے سرکاری ملازمین کو کام پر واپس آنے کا حکم دیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے فوج نے مظاہرین کو بڑی تعداد میں گرفتار کیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے نجی املاک کی تلاشی کے لئے فوج کو وسیع اختیارات دئے ہیں ۔

فوج نے انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کو یکم فروری کو ہونے والی بغاوت اور اس کے بعد سوچی اور سویلین حکومت کے اعلیٰ ارکان کی نظربندی کے جواز کے طور پر استعمال کیا۔ اس بغاوت کی قیادت کرنے والے سینئر جنرل من آنگ ہیلیینگ نے گزشتہ ہفتے قومی سطح پر ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ حقیقی اور منظم جمہوریت لانے کے لئے نئے انتخابات کرائے جائیں گے، لیکن یہ وضاحت نہیں کی کہ انتخاب کب کرائے جائیں گے۔ فوج نے ایک سال کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG