رسائی کے لنکس

logo-print

ایل این جی ٹھیکے میں بدعنوانی کے الزام پر نواز شریف، شاہد خاقان عباسی کے خلاف تحقیقات


فائل

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے ’ایل این جی‘ ٹھیکے میں کرپشن کے الزام میں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔

اسلام آباد میں ترجمان نیب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں دو سابق وزرائے اعظم، 2 سابق وزرائے اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی تحقیقات کی منظوری دی گئی۔

نیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف، شاہد خاقان عباسی و دیگر کے خلاف ’ایل این جی‘ ٹرمینل کا ٹھیکہ قواعد و ضوابط کے خلاف دینے کے الزام میں انکوائری شروع کردی گئی ہے۔

دونوں وزرائے اعظم نے من پسند کمپنی کو 15 سال کا ٹھیکہ خلاف ضابطہ دیا جس سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

دیگر جن معاملات میں تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے ان میں سندھ کلچرل فیسٹیول 2014 میں بدعنوانی کے الزام میں سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ، سابق سیکرٹری سندھ، محکمہ کلچر ٹورازم اینڈ اینٹیک کے افسران، اہلکاروں اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی گئی ہے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر خزانے کو 12 کروڑ 70 لاکھ کا نقصان پہنچایا۔

نیب نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے حکومتی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے الزام میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، متعلقہ سیکریٹریز، سابق ایم پی اے اور چنیوٹ شوگر ملز انتظامیہ کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی۔ عوام سے بڑے پیمانے پر دھوکا دہی کے الزام میں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ و دیگر کیخلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی۔

نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں سابق صوبائی وزیر بلوچستان شیخ جعفر خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر منیجمنٹ عبد الطیف خان، سابق صوبائی وزیر برائے جنگلات بلوچستان عبیداللہ بابت اور دیگر کے خلاف بھی انکوائریز کی منظوری دی۔ اجلاس میں سابق جنرل مینیجر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) عبد الحکیم صدیقی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ دائر کرنے جب کہ نجی اخبار کے مالک کے خلاف انکوائری کی منظوری کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر کنٹریکٹ میں توسیع کے الزام میں سابق چئیرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ وائس ایڈمرل ریٹائرڈ احمد حیات دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ملزمان نے قومی خزانے کو مبینہ طورپر تقریبا 21 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

چئیرمین نیب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شوائد کی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں۔ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی پاکستان اور پاکستان کی عوام سے ہے۔ نیب افسران اپنے فرائض پوری ایمانداری، دیانت، میرٹ، شفافیت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرانجام دیں۔ اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG