رسائی کے لنکس

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی پانچویں سماعت


فائل فوٹو

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم صرف بیماری کے باعث حاضری سے استثنیٰ مانگ سکتا ہے. کوئی اسائمنٹ یا میٹنگ پیشی میں آڑے آرہی ہے تو ملزم کو وہ اسائمنٹ چھوڑ دینا چاہیے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پانچویں مرتبہ پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ طارق جاوید پر وکیلِ صفائی کی جرح مکمل ہوگئی۔ کیس کی آئندہ سماعت 18 اکتوبر کو ہوگی جس کے دوران استغاثہ کے مزید دو گواہان بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

پیر کو عدالت میں کارروائی کے آغاز پر اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث کے معاون قوسین فیصل نے وزیرِ خزانہ کی حاضری سے استثنیٰ کے حوالے سے عدالت میں درخواست جمع کرائی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیرِ خرانہ اسحاق ڈار کو وزارت کے امور چلانے کے لیے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے جسے احتساب عدالت نے مسترد کردیا۔

درخواست مسترد ہونے کے بعد قوسین فیصل نے عدالت کو بتایا کہ استثنیٰ کی استدعا دوبارہ کی جائے گی جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استثنیٰ پر بات خواجہ حارث کی موجود گی میں ہوگی۔

عدالت نے خواجہ حارث کی عدم موجودگی کے باعث کارروائی کو 12 بجے تک ملتوی کر دیا۔

وقفے کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے موکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی اور عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کو آج کابینہ ڈویژن کی اہم میٹنگ میں جانا ہے۔

اس موقع پر نیب کے پراسیکیوٹر عمران شفیق نے استثنیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے لیے عدالت کی حاضری سے زیادہ کوئی ڈیوٹی اہم نہیں اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں کہ مصروفیت کے باعث استثنیٰ دیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم صرف بیماری کے باعث حاضری سے استثنیٰ مانگ سکتا ہے. کوئی اسائمنٹ یا میٹنگ پیشی میں آڑے آرہی ہے تو ملزم کو وہ اسائمنٹ چھوڑ دینا چاہیے۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہمیشہ کے لیے نہیں صرف آج آدھے دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔ جس پر عدالت نے استثنیٰ کے معاملے کو موخر کرتے ہوئے کارروائی شروع کی۔

نیب کے گواہ طارق جاوید نے ای میل کا ریکارڈ پیش کیا جس پر عدالت نے تین صفحات پر مشتمل ای میل کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔

جب گواہ طارق جاوید پر جرح مکمل ہوئی تو عدالت نے کیس کی سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کردی اور استغاثہ کے مزید دو گواہان کے طلبی کے سمن جاری کردیے۔

گواہان عبدالرحمان گوندل اور مسعود الغنی کو آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

گزشتہ سماعت پر البرکہ بینک کے نائب صدر طارق جاوید اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے سربراہ شاہد عزیز کے بیانات قلم بند کیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں الزامات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی حتمی رپورٹ کی روشنی میں اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے حوالے سے ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG