رسائی کے لنکس

logo-print

چیئرمین نیب کا مبینہ ویڈیو اسکینڈل، نیب کی تردید


فائل فوٹو

قومی احتساب بیورو (نیب) نے نجی ٹی وی چینل 'نیوز ون' پر چیئرمین نیب سے متعلق نشر ہونے والی خبر کی تردید کرتے ہوئے اسے من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔

نیوز ون نے جمعرات کو چیئرمین نیب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کی مبینہ طور پر ایک خاتون کے ساتھ ٹیلی فون پر متنازع گفتگو اور دفتر میں ملاقات کی ویڈیو نشر کی تھی۔

تاہم اس ویڈیو کے نشر کرنے کے کچھ ہی دیر بعد نیوز چینل نے اپنے اس اقدام پر چیئرمین نیب سے معذرت کرتے ہوئے خبر کو ہٹا دیا تھا۔ لیکن اس دوران یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے یہ خبر نشر ہونے کے بعد اپنے مشیر برائے میڈیا طاہر اے خان کو برطرف کر دیا ہے جو 'نیوز ون' چینل کے مالک بھی ہیں۔

چینل کی معذرت کے بعد ترجمان نیب نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ترجمان نے کہا ہے کہ یہ پروپیگنڈا چیئرمین نیب کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

چیئرمین نیب پر الزام لگانے والی خاتون کون ہیں؟

اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو طیبہ گل نامی خاتون نے بنائی ہے جو چیئرمین نیب سے ان کے دفتر میں بھی ملیں۔ اس خاتون کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ ان پر اور ان کے شوہر پر جعلسازی اور فراڈ کے 33 مقدمات قائم ہیں۔ صرف اسلام آباد شہر میں اس خاتون کے خلاف دھوکہ دہی اور فراڈ کے تین مقدمات درج ہیں۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیب نے ایک بلیک میلر گروہ کے دو افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان کے خلاف ریفرنس کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

نیب کے مطابق اس گروہ کے خلاف ملک بھر میں 42 مقدمات درج ہیں۔ گروہ کے اراکین نیب اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے جعلی افسر بن کر لوگوں کو بلیک میل کرنے میں بھی ملوث ہیں۔

ترجمان نیب کے بقول گروہ کا سرغنہ فاروق کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے جب کہ دیگر ملزم بھی جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

چیئرمین نیب مسلسل تنازعات کی زد میں

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے چند روز قبل معروف صحافی اور کالم نگار جاوید چوہدری سے ملاقات کی تھی جس میں ان کا مبینہ طور پر کہنا تھا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اور عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

چیئرمین نیب نے دورانِ ملاقات کہا تھا کہ ان سے نہ تو حکومت خوش ہے اور نہ ہی اپوزیشن۔ تاہم بعد ازاں نیب نے کہا تھا کہ چیئرمین کی گفتگو سیاق و سباق سے ہٹ کر رپورٹ کی گئی۔

لیکن صحافی جاوید چوہدری نے نیب کی تردید کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی خبر اور ملاقات کے دوران گفتگو کے ایک ایک لفظ پر قائم ہیں۔

چیئرمین نیب کی گفتگو پر ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا تھا اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اس معاملے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی عندیہ دیا تھا۔

چیئرمین نیب کے خلاف مبینہ ویڈیو اسکینڈل منظرِ عام پر آنے کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کو اس سکینڈل سے کوئی سروکار نہیں اور وہ اس معاملے میں نہیں پڑے گی۔

ان کے بقول نیب سے متعلق مسلم لیگ (ن) کا مؤقف واضح ہے اور وہ اصولی بنیادوں پر ان کی مخالفت جاری رکھے گی۔

چیئرمین نیب کو متنازع بنا کر فائدہ کس کا؟

چیئرمین نیب نے صحافی جاوید چوہدری سے ملاقات کی تردید نہیں کی۔ لیکن انہوں نے ملاقات کے دوران گفتگو کے مندرجات کی تردید کی ہے۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ انہوں نے چیئرمین نیب کو بتایا تھا کہ یہ ملاقات میں کی جانے والی باتیں چھپں گی جس پر انہوں نے کہا تھا کہ بالکل چھاپیں۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ ایسی متنازع باتیں چیئرمین نیب نے خود پر موجود حکومتی دباؤ کم کرنے کی کوشش کیں ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومتی وزرا کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس ملاقات کے بعد چیئرمین نیب پر حکومتی دباؤ کم ہوا ہے تاہم اپوزیشن کی جانب سے بڑھتے دباؤ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق اپوزیشن جماعتیں چیئرمین نیب کو متنازع بنانے کی کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئی ہیں۔

چیئرمین نیب کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق بھی صورتِ حال واضح نہیں ہے۔ ماضی میں اہم شخصیات کی فون کالز کی ریکارڈنگ کا الزام حساس اداروں پر لگتا رہا ہے۔

تاحال یہ بھی واضح نہیں کہ اگر خاتون نے اپنے شوہر کی رہائی اور بلیک میل کرنے کے لیے آڈیو لیک کی ہے تو اب وہ خاتون کہاں ہیں اور آیا ان کے خلاف کوئی کارروائی ہو رہی ہے؟

چیئرمین نیب کو ہٹانے کا طریقۂ کار

چیئرمین نیب کو ہٹانے کے حوالے سے ماہرینِ قانون کہتے ہیں کہ اس بارے میں آئین میں وضاحت نہیں ہے۔

آئین کا آرٹیکل 209 سپریم کورٹ کے ججز اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو ہٹانے سے متعلق ہے لیکن اس میں چیئرمین نیب کے حوالے سے کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اسی طرح ایک اور آرٹیکل میں چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملہ لے جانے کا کہا گیا ہے لیکن چیئرمین نیب پر یہ آرٹیکل بھی خاموش ہے۔

بعض ماہرینِ قانون کاکہنا ہے کہ اگر قانون خاموش ہو تو جنرل کلاز ایکٹ 1897ء کے مطابق صدرِ پاکستان کے پاس اختیار ہے کو وہ چیئرمین نیب کو ہٹا سکتے ہیں۔

کیا حکومت بھی چیئرمین نیب سے ناخوش ہے؟

کہا جارہا ہے کہ چیئرمین نیب سے حکومتی شخصیات بھی خوش نہیں۔ حال ہی میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کی بیرونِ ملک جائیدادوں کی فہرست سامنے آئی ہے جو ان کے اثاثوں میں ظاہر نہیں تھی جس پر نیب نے انہیں نوٹس بھجوایا ہے۔

اس کے علاوہ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی امریکہ میں جائیداد بھی سامنے آئی تھی اور اطلاعات ہیں کہ انہیں بھی نوٹس بھیجا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں یہ خبریں گرم ہیں کہ یہ نوٹسز ہی حکومت اور چیئرمین نیب کے درمیان اختلافات میں بڑھاوے کی وجہ بن رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG