رسائی کے لنکس

logo-print

ںیب ٹیم کی شہباز شریف کی رہائش گاہ آمد، مسلم لیگ کا احتجاج


ّ(فائل فوٹو)

قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی لاہور میں واقع رہائش گاہ گئی۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ نیب ٹیم انہیں گرفتار کرکے ساتھ لے جانے آئی ہے۔

نیب لاہور نے شہباز شریف کو دو جون کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں طلب کر رکھا تھا۔ لیکن شہباز شریف نے کرونا وبا کے باعث ویڈیو کال کے ذریعے پوچھ گچھ کرنے کی درخواست کی تھی۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شہباز شریف کو حراست میں لینے کے لیے نیب لاہور کی ٹیم ماڈل ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی۔

کارروائی کے دوران اپوزیشن لیڈر کے گھر جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔ نیب کی کارروائی کا سن کر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی شہباز شریف کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئی۔

مسلم لیگ کے کارکن حکومت اور نیب کے خلاف مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔ اس دوران پولیس اور مسلم لیگ کے کارکنان کے درمیان کئی بار گرما گرمی بھی ہوئی۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے ضیا الرحمٰن کے مطابق آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں شہباز شریف کو نیب نے آج طلب کیا تھا تاہم وہ نیب میں پیش نہیں ہوئے۔ شہباز شریف نے نیب میں جواب جمع کرایا تھا کہ ملک میں کرونا وائرس کی وبا عروج پر ہے۔ نیب کے کچھ افسران بھی وبا کا شکار ہوئے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اُن کی عمر 69 سال ہے اور وہ کینسر کے بھی مریض ہیں۔ نیب کی تحقیقاتی ٹیم ویڈیو کال کے ذریعے سوالات کر سکتی ہے۔

شہباز شریف کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈھائی سال سے جھوٹے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ شہباز شریف ہمیشہ نیب میں پیش ہوتے رہے۔ وہ پوری کارروائی کا حصہ بنے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔

مریم اورنگزیب نے شہباز شریف کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں نیب کی کارروائی کے خلاف درخواست دائر کیے جانے سے بھی آگاہ کیا۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے حوالے سے وفاقی یا صوبائی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیب کو وزیر اعظم سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ نیب آزاد ادارہ ہے۔ شہباز شریف بے گناہ ہیں تو پیش ہو کر شواہد پیش کریں۔

شہباز شریف کو اکتوبر 2018 میں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں بھی اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ طلبی پر نیب آفس گئے تھے۔

ڈی جی نیب لاہور نے بتایا تھا کہ نیب مبینہ گھپلے سے متعلق تفتیش کر رہی ہے۔ شہباز شریف سوالات پر مطمئن نہ کر سکے تھے جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

فروری 2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز سے متعلق مقدمات میں شہباز شریف کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ قومی احتساب بیورو نے ان کی ضمانت پر رہائی کی مخالفت کی تھی۔

دوسری جانب نیب سابق وزیراعظم نواز شریف کے اراضی کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کر چکا ہے۔

نیب کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ میر شکیل الرحمٰن اراضی کیس میں نواز شریف کو طلبی کا نوٹس بھیجا گیا۔ لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔ لہذٰا نیب نے اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

خیال رہے کہ نیب پاکستان کے میڈیا ادارے 'جنگ گروپ' کے زیرِ حراست مالک میر شکیل الرحمٰن سے 1986 میں اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں تحقیقات کر رہا ہے۔ نواز شریف اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔

نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ نے اکتوبر 2019 میں طبی بنیادوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ علاوہ ازیں اسلام ہائی کورٹ نے بھی العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم کی سزا چھ ہفتوں کے لیے معطل کر دی تھی۔

بعد ازاں نومبر 2019 میں نواز شریف علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہو گئے تھے ان کے ہمراہ شہباز شریف بھی لندن گئے تھے۔

شہباز شریف چار ماہ تک لندن میں رہنے کے بعد رواں سال مارچ میں پاکستان واپس آئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG