رسائی کے لنکس

logo-print

پنجاب حکومت کا نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ


(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ضمانت میں توسیع کے لیے نواز شریف کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ منگل کو پنجاب کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے بتایا کہ عدالت عالیہ نے نواز شریف کو علاج کے لیے آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اب 16 ہفتے گزر چکے ہیں۔

کابینہ اجلاس میں پنجاب کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے نوازشریف کی صحت سے متعلق رپورٹ پر تجاویز پیش کیں جس کا کابینہ نے جائزہ لیا۔ کابینہ ارکان نے کہا کہ نوازشریف کی طرف سے ایسی کوئی ٹھوس رپورٹس پیش نہیں کی گئیں جو ضمانت میں توسیع کا جواز فراہم کریں۔

کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے راجہ بشارت نے بتایا کہ نواز شریف بورڈ اور کمیٹی کو مطلوبہ رپورٹس پیش نہیں کر سکے۔ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

راجہ بشارت نے بتایا کہ 16 ہفتے گزر جانے کے باوجود بھی نواز شریف کے علاج کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

چوہدری شوگر مل کیس میں درخواست ضمانت کی منظوری اور العزیزیہ کیس میں سزا معطلی کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ سال نومبر میں نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

عدالت نے آٹھ ہفتوں کے لیے نواز شریف کی ضمانت منظور کی تھی۔ البتہ ضمانت میں توسیع کے لیے پنجاب حکومت سے رُجوع کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ نواز شریف کے کسی بھی اسپتال میں داخل نہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ اُن کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کے لیے لندن روانہ ہو گئے تھے۔ (فائل فوٹو)
سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کے لیے لندن روانہ ہو گئے تھے۔ (فائل فوٹو)

یاسمین راشد نے کہا کہ "رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ سفر کے قابل نہیں ہیں۔ لیکن 16 ہفتے گزر جانے کے باوجود اُن کا علاج ہی شروع نہیں ہو سکا۔ اس کا مطلب ہے کہ معاملہ اتنا سنجیدہ نہیں ہے۔"

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پنجاب حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کا فیصلہ حکمرانوں کی کم ظرفی اور سیاسی انتقام کا ثبوت ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نواز شریف کی صحت بارے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ وہ کبھی نواز شریف کو بیمار کہتے ہیں تو کچھ دِنوں بعد اپنی ہی کہی ہوئی بات سے مکر جاتے ہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کی رائے میں نواز شریف کو حکومت نے یا عدالت نے باہر جانے کی اجازت نہیں دی، وہ کسی اور کی اجازت سے باہر گئے ہیں۔ کیوں کہ ایسے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ پہلے عدالت نے اُن کی درخواست ضمانت منظور کی اور حکومت کو ہدایت کی کہ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکال دیں۔ جس کے بعد عمران خان نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا کہ اُنہیں نواز شریف پر ترس آ گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے آٹھ ہفتوں کے لیے اُن کی سزا معطل کی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ نوازشریف کی صحٹ ٹھیک نہ ہونے پر وہ ضمانت میں توسیع کے لیے پنجاب حکومت سے رُجوع کرتے ہیں۔

احسن اقبال اور شاہد خاقان کی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کو ضمانت پررہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے دونوں رہنماؤں کو ایک، ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کے خلاف نارووال سٹی اسپورٹس کمپلیکس سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ ناکافی شواہد کی بنیاد پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ گرفتاری کی ٹھوس وجوہات دینا ہوتی ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیے کہ ملزم پر اگر تشدد ہو تو اُس کی عزت نفس متاثر ہوتی ہے۔ نیب ہر ملزم کو ٹھوس وجہ بتا کر حراست میں لیتی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال اپنے اپنے حلقوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ دونوں گرفتار ملزمان عوامی نمائندگی کے لیے نااہل نہیں ہوئے۔ سزا ہونے سے پہلے ملزمان کو گرفتار رکھنا حلقے کے عوام کو نمائندگی سے محروم رکھنا تصور ہو گا۔

شاہد خاقان عباسی (فائل فوٹو)
شاہد خاقان عباسی (فائل فوٹو)

عدالت نے دلائل سننے کے بعد احسن اقبال کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا جس کے بعد سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ایل این جی کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی مہنگے داموں خریدی۔ جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے تفتیش کی کہ دنیا میں کہیں اس سے سستی ایل این جی خریدی گئی ہے۔

نیب تفتیشی افسر نے سابق سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید کا بیان پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ وزارت نے اوگرا سے مشاورت نہیں کی۔ شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کے منصوبے میں اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے شاہد خاقان عباسی کو ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG